تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 129
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء اسی طرح تحریک جدید کا جو کارکن اپنا چندہ ادا کرنے کے علاوہ دس آدمیوں سے چندہ وصول کر کے بھجواتا ہے۔اسے ان دس آدمیوں کا ثواب ملتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دروازوں کو اس طرح کھول رکھا ہے تو جو شخص اب بھی ستی سے کام لیتا ہے۔اس کی حالت کس قدر افسوسناک ہے۔پس میں تحریک جدید کے کارکنوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دسمبر کی ہیں تاریخ تک اپنی چندوں کی فہرستیں مرتب کر کے بھجواد میں اور جو کام باقی رہ جائے ، اس کی تاریخ 31 جنوری تک ہوگی۔کیونکہ جلسہ سالانہ کے بعد اپنے گھروں کو جا کر لوگ 15-10 جنوری سے کام شروع کرتے ہیں۔پس پنجاب اور دوسرے علاقوں کے لئے جہاں اردو بولی اور سبھی جاتی ہے۔وعدے بھیجنے کی آخری تاریخ 31 جنوری ہے۔مگر وہ لوگ یقیناً ہمارے کام میں سہولت پیدا کرنے والے ہوں گے، جن کے وعدے ہیں دسمبر تک آجائیں گے۔جن علاقوں میں اردو زبان نہیں بولی جاتی۔مثلاً بنگال ہے یا مدارس ہے یا اسی طرح غیر زبان بولنے والے اور صوبہ جات ہیں، ان کے وعدوں کی آخری معیاد 30 اپریل ہے۔اسی طرح ہندوستان کے باہر دوسرے ممالک میں رہنے والے ہندستانیوں کے لئے بھی 30 اپریل آخری تاریخ ہے۔البتہ غیر ملکی لوگوں کے لئے جیسے امریکہ وغیرہ کے رہنے والے ہیں ، 30 جون تک وعدوں کی معیاد ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست اس تحریک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ، اس میں حصہ لیں گے۔یادرکھو، دنیا میں وہی تو میں ترقی کیا کرتی ہیں، جو اپنا قدم ہمیشہ آگے بڑھاتی ہیں۔اگر گندم کو ترقی دے کر اسے آگے بڑھایا جاسکتا ہے، اگر سبزیوں اور ترکاریوں کو ترقی دے کر انہیں بڑھایا جا سکتا ہے، اگر آموں کو ترقی دے کر انہیں بڑھایا جاسکتا ہے، اگر گھوڑوں ، گدھوں ، بیلوں اور بکریوں کو ترقی دے کر انہیں بڑھایا جاسکتا ہے تو سوچو کہ خدا تعالیٰ کی اشرف المخلوق کو ترقی دے کر کیوں بڑھایا نہیں جا سکتا ؟ یقینا جس طرح اور چیزیں ترقی کر رہی ہیں، اسی طرح بنی نوع انسان بھی ترقی کر سکتے ہیں اور وہ اپنے روحانی کمالات سے دنیا کو موحیرت کر سکتے ہیں۔بالخصوص ہماری جماعت تو وہ ہے، جسے خدا نے ترقی کے لئے ہی پیدا کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تمام دنیا پر ہماری جماعت کو غالب کرے۔پس ہماری جماعت کو اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرنا چاہئے کہ جس طرح اچھے پیج قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔اسی طرح ہماری جماعت کو دیکھ کرلوگ اس کی قدر کرنے لگ جائیں اور وہ کہہ اٹھیں کہ دنیا ایسی قیمتی جماعت کو دیکھنے سے آج تک محروم ہے۔(مطبوعہ الفضل 7 دسمبر 1941ء) 129