تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 96
خلاصہ خطاب فرمودہ 24 جولائی 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم میں اسلام کی طرف سے لڑیں۔مخالفین اسلام کے پر خچے اڑا دینے اور دشمن کو ریزہ ریزہ کر دینے والے الفاظ کافی نہیں ہو سکتے۔اگر کافی ہو سکتے ہیں تو ایسے زندہ انسان جن کے جسم کے ذرہ ذرہ میں وہ لہریں پیدا ہورہی ہوں۔جو انہیں اسلام کی جنگ کی طرف لے جارہی ہوں اور اسلام کو غلبہ دلانے کیلئے بے تاب کر رہی ہوں۔اس موقع پر حضور نے فرمایا: و تم یہ مت خیال کرو ہم طالب علم ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ دراصل یہی وہ زمانہ ہے جس میں کی ہوئی تیاری بعد کی زندگی میں مفید ثابت ہوتی ہے اور یہی وہ زندگی ہے جس میں آئندہ کام کرنے کیلئے جوش اور ولولہ پیدا کیا جاتا ہے۔تم میں چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی۔وہ عمر جو چھوٹوں کی ہے ، وہ بھی ہم پر گزری ہے اور وہ عمر جو بڑوں کی ہے، وہ بھی ہم پر گزری ہے۔اس عمر میں اسلام کی خدمت کا ہم میں ایسا جوش پایا جاتا تھا کہ اس وقت ہم بڑوں کی امداد کے محتاج نہ ہوتے تھے۔اس کے بعد حضور نے بتایا کہ کس طرح 16 سال کی عمر میں حضور نے مع چند اور ساتھیوں کے خدمت اسلام کیلئے ایک رسالہ جاری کیا اور کس طرح خود ہی کوشش کر کے بغیر بڑوں کی کسی قسم کی امداد کے اس میں کامیابی حاصل کی اور رسالہ کو نہایت مفید بنایا۔پھر حضور نے فرمایا: ہم اس عمر میں بھی آزاد رائے رکھنے والے لوگ تھے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ بڑوں کی باتیں نہ مانتے تھے۔بلکہ یہ کہ جب ایک دفعہ سن لیتے کہ دین کی خدمت کے لئے فلاں کام کرنا چاہئے تو پھر دوبارہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی کہ وہ کام کس طرح کریں؟ آزادی کی روح اور دلیری سے کام کرتے تھے اور کام کرنا چاہتے تھے۔آخر میں حضور نے فرمایا: میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ خیال اپنے دلوں سے نکال دو کہ ہم بچے ہیں، ہم اس عمر میں کیا کر سکتے ہیں؟ ہم حضرت مسیح موعود سے جب یہ سنتے کہ اللہ تعالی اسلام اور احمدیت کو ترقی دے گا تو ہم سمجھتے کہ یہ ترقی ہمارے ذریعہ سے ہوگی اور پھر کام کرنے لگ جاتے اور خدا تعالیٰ اس میں برکت دیتا۔تم یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔اس عمر میں سب سے ضروری چیز زبان سیکھنا ہے تمہیں اردو سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے بعد مضامین لکھنے خود بخود آجائیں گے۔پھر تمہیں یہ یقین 96