تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 71

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء پنجاب کے بنگال میں۔غرض کسی نہ کسی دوسرے علاقہ میں چلے جائیں۔رنگون کلکتہ بمبئی وغیرہ شہروں میں پھیری سے ہی وہ کچھ نہ کچھ کما سکتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض ہونے سے بچا سکتے ہیں لیکن اگر کسی کو ناکامی ہوتو کیا نا کامی اپنے وطن میں رہنے والوں کو نہیں ہوتی ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ باہر نکل کر جدوجہد نہ کریں اور سلسلہ کے لئے مفید وجود نہ بنیں اور بے کار گھروں میں پڑے رہیں؟ سولہواں مطالبہ یہ ہے کہ جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔میں نے دیکھا ہے اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے۔ذلت کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض کام ذلت کا موجب ہیں اگر ایسا ہے تو ہمارا کیا حق ہے کہ اپنے کسی بھائی سے کہیں کہ وہ فلاں کام کرے جسے ہم کر ناذلت سمجھتے ہیں؟ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے کام کرنا چاہئے۔امرا تو اپنے گھروں میں کوئی چیز ادھر سے اٹھا کر ادھر رکھنا بھی عار سمجھتے ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بیسیوں دفعہ برتن مانجتے اور دھوتے دیکھا ہے اور میں نے خود بیسیوں دفعہ برتن مانجے اور دھوئے ہیں اور کئی دفعہ رومال وغیرہ کی قسم کے کپڑے بھی دھوئے ہیں۔ایک دفعہ میں نے ایک ملازم کو پاؤں دبانے کے لئے بلایا وہ مجھے دبا رہا تھا کہ کھانے کا وقت ہو گیالڑ کا کھانے کا پوچھنے آیا تو میں نے کہا دو آدمیوں کا کھانا لے آؤ۔کھانا آنے پر میں نے اس ملازم کو ساتھ بٹھا لیا۔لڑکا یہ دیکھ کر دوڑا دوڑا گھر میں گیا اور جا کر قہقہہ مار کر کہنے لگا: حضرت صاحب فلاں ملازم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔اسلامی طریق یہی ہے اور میں سفر میں یہی طریق رکھتا ہوں کہ ساتھ والے آدمیوں کو اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا لیتا ہوں۔میں نے دیکھا ہے حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ میں بعض بعض خوبیاں نہایت نمایاں تھیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اسی مسجد میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے میں چھوٹا سا تھا سات آٹھ سال کی عمر ہوگی ، ہم باہر کھیل رہے تھے کہ کوئی ہمارے گھر سے نکل کر کسی کو آواز دے رہا تھا کہ فلانے مینہ آ گیا ہے او پہلے بھیگ جائیں گے جلدی آؤ اور ان کو اندر ڈالو۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ درس دے کر ادھر سے جارہے تھے انہوں نے اس آدمی سے کہا کیا شور مچارہے ہو؟ اس نے کہا کوئی آدمی نہیں ملتا جو او پلے اندر ڈالے آپ نے فرمایا تم مجھے آدمی نہیں سمجھتے ؟ یہ کہہ کر آپ نے ٹوکری لے لی اور اس میں اوپلے ڈال کر اندر لے گئے۔آپ کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی شامل ہو گئے اور جھٹ پٹ اوپلے اندر ڈال دیئے گئے اسی طرح اس مسجد کا ایک حصہ بھی حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ نے بنوایا تھا۔ایک کام میں نے بھی اسی قسم کا کیا تھا مگر اس پر بہت عرصہ گزر گیا ہے۔71