تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 70

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول میں احمدیوں کا دخل ہے اور باقی خالی پڑے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس بارے میں معمولی سا نظام قائم کرنے سے سلسلہ کو بہت بڑی طاقت حاصل ہوسکتی ہے اور وہ لڑکے جن کی زندگیاں ضائع ہو جاتی ہیں بیچ سکتے ہیں اور کئی نو جوان جو اچھے اور اعلیٰ درجہ کے کام نہیں کر رہے کرنے لگ جائیں گے اور کئی محکموں میں ترقی کرنے کا رستہ نکل آئے گا۔اگر ایسے سو آدمی بھی اپنے لڑکوں کو پیش کر دیں اور کمیٹی ان لڑکوں کے متعلق فیصلہ کرے تو اس کا نتیجہ بہت اچھا نکل سکتا ہے۔دوسرے صوبوں میں یہ کمیٹی اپنی ماتحت انجمنیں قائم کرے جو اپنے رسوخ اور کوشش سے نو جوانوں کو کامیاب بنائیں۔اس کام کے لئے جو کمیٹی میں نے مقرر کی ہے اور جس کا کام ہوگا کہ اس بارے میں تحریک بھی کرے اور اس کام کو جاری کرے ، اس کے فی الحال تین ممبر ہوں گے۔جن کے نام یہ ہیں :- 1۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب 2۔خان صاحب فرزند علی صاحب 3۔میاں بشیر احمد صاحب یہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں اور کام کو جاری کرنے کی ممکن تدابیر عمل میں لائیں۔پندرھواں مطالبہ جو جماعت سے بلکہ نو جوانان جماعت سے یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے بہت سے نوجوان بے کار ہیں۔میں ایک مثال دے چکا ہوں کہ ایک نوجوان اسی قسم کی تحریک پر ولایت چلے گئے اور وہاں سے کام سیکھ کر آگئے اب وہ انگلش ویئر ہاؤس لاہور میں اچھی تنخواہ پر ملازم ہیں۔وہ جب گئے تو جہاز پر کوئلہ ڈالنے والوں میں بھرتی ہو گئے۔ولایت جا کر انہوں نے کنٹر کا کام سیکھا اور اب اچھی ملازمت کر رہے ہیں۔وہ نو جوان جو گھروں میں بے کار بیٹھے روٹیاں توڑتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض بنا رہے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے وطن چھوڑیں اور نکل جائیں۔جہاں تک دوسرے ممالک کا تعلق ہے اگر وہ اپنے لئے صحیح انتخاب کر لیں تو 99 فیصدی کامیابی کی امید ہے۔کوئی امریکہ چلا جائے، کوئی جرمنی چلا جائے ، کوئی فرانس چلا جائے ، کوئی انگلستان چلا جائے، کوئی اٹلی چلا جائے، کوئی افریقہ چلا جائے غرض کہیں نہ کہیں چلا جائے اور جا کر قسمت آزمائی کرے۔وہ کیوں گھروں میں بے کار پڑے ہیں؟ باہر نکلیں اور کمائیں پھر خود بھی فائدہ اُٹھا ئیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔جو زیادہ دور نہ جانا چاہیں وہ ہندوستان میں ہی اپنی جگہ بدل لیں مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بعض نوجوان ماں باپ کو اطلاع دیے بغیر گھروں سے بھاگ جاتے ہیں یہ بہت بری بات ہے۔جو جانا چاہیں اطلاع دے کر جائیں اور اپنی خیر و عافیت کی اطلاع دیتے رہیں۔مدر اس کے بمبئی کے علاقہ میں چلے جائیں، بمبئی کے بہار میں، 70