تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 721
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 7 اپریل 1939ء زندگیاں وقف کی تھیں ایک نو جوان تھوڑا ہی عرصہ ہوا غالباً پندرہ بیس دن یا مہینہ کی بات ہے کہ محض احمدیت کی تبلیغ کی وجہ سے اپنے علاقہ میں مارے گئے ہیں۔اس نوجوان کا نام ولی داد خاں تھا اور اس نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔افغانستان کے علاقہ میں ہم نے انہیں تبلیغ کے لئے بھجوایا تھا۔کچھ طب بھی جانتے تھے اور معمولی امراض کے علاج کے لئے دوائیاں اپنے پاس رکھتے تھے۔کچھ مدت تک ہم انہیں خرچ بھی دیتے رہے مگر پھر ہم نے انہیں خرچ دینا بند کر دیا تھا۔ان کی اپنی بھی یہی خواہش تھی اور میں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ اس علاقہ میں طب شروع کر دیں اور آہستہ آہستہ جب لوگ مانوس ہو جائیں تو انہیں تبلیغ احمدیت کی جائے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایسے مواقع بہم پہنچا دیئے کہ انہوں نے اس علاقہ میں لوگوں کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔کھلی تبلیغ سے تو ہم نے خود انہیں روکا ہوا تھا، کیونکہ یہ وہاں کے قانون کے خلاف ہے۔آہستہ آہستہ وہ تبلیغ کیا کرتے اور لوگوں کو نصیحت کیا کرتے کہ کبھی پنجاب میں جایا کرو تو قادیان بھی دیکھ آیا کرو۔رفتہ رفتہ جب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ احمدی ہے تو انہوں نے گھر والوں پر زور دینا شروع کر دیا کہ تمہیں اس فتنہ کے انسداد کا کوئی خیال نہیں۔تمہارے گھر میں کفر پیدا ہو گیا ہے اور تم اس سے غافل ہو۔چنانچہ انہیں اس قدر بر انگیختہ کیا گیا کہ وقتل کے درپے ہو مولوی ولیداد خاں چند دن پہلے ہندوستان میں بعض دوائیاں خریدنے کے لے آئے ہوئے تھے۔جب دوائیاں خرید کر اپنے علاقہ کی طرف گئے تو انہی کے چازاد بھائی اور سالہ نے ان پر گولیوں کے متواتر تین چار فائر کر کے انہیں شہید کر دیا۔اسی طرح ایک اور نوجوان جو اس تحریک کے ماتحت چین میں گئے تھے وہ بھی فوت ہو گئے ہیں اور گوان کی وفات طبعی طور پر ہوئی ہے مگر ایسے رنگ میں ہوئی ہے کہ وہ موت اپنے اندر شہادت کا رنگ رکھتی ہے۔چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا مجھے ایسے حالات معلوم ہوئے جن سے پتہ لگتا ہے کہ واقعہ میں اس کی موت معمولی موت نہیں، بلکہ شہادت کا رنگ لئے ہوئے ہے۔اس نوجوان نے بھی ایسا اخلاص دکھایا جو نہایت قابل قدر ہے۔سب سے پہلے 1934ء میں جب میں نے یہ تحریک کی اور اعلان کیا کہ نو جوانوں کو غیر ممالک میں نکل جانا چاہئے تو یہ نوجوان جو غالباً د مینیات کی متفرق کلاس میں پڑھتا تھا اور عدالت خان اس کا نام تھا تحصیل خوشاب ضلع شاہ پور کا رہنے والا تھا، میری اس تحریک پر بغیر اطلاع دیئے کہیں چلا گیا۔قادیان کے لوگوں نے خیال کر لیا کہ جس طرح طالب علم بعض دفعہ پڑھائی سے دل برداشتہ ہو کر بھاگ جایا کرتے 721