تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 672 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 672

اقتباس از تقریر فرموده 16 اپریل 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول سلسلہ کو مزید مبلغوں کی ضرورت پیش آئے ان طلبا میں سے ایک یا ایک سے زیادہ طالب علموں کو حسہ ضرورت منتخب کر کے ایک سال کے زائد مطالعہ کے بعد کام پر لگا دیا جائے۔اس طرح نئے مبلغ بھی وقت پرپل سکیں گے اور جن کی ضرورت نہ ہوگی ان کی عمر بھی ضائع نہ ہوگی۔اس وقت تین مبلغ سالانہ لئے جاتے ہیں۔ان کی تنخواہ 45 سے 65 تک ہوتی ہے اور اوسط 55 فرض کر کے پونے دو سو روپیہ ماہوار کی بچت صرف پہلے سال میں نکل آتی ہے۔جو دس سال میں ہیں ہزار سالانہ کی بچت بن جاتی ہے۔زائد تین سو کا خرچ جو طب کا کام چلانے کے لے دیا جانے کی تجویز ہے، وہ بھی اگر ضرورت ہو صرف سفر خرچ کی کمی سے نکل آتا ہے، کیونکہ قریبافی مبلغ ایک سو روپیہ سالانہ سفر کے اخراجات میں خرچ ہوتے ہیں۔پس ان تین مبلغوں کے اڑ جانے سے تین سو روپے سفر خرچ کے بچ جاتے ہیں اور یہی رقم حسب ضرورت فارغ التحصیل طلبا کو کام چلانے کے لئے دی جاسکتی ہے اور ہندوستان میں مختلف جگہوں پر مطلب کھولے جاسکتے ہیں۔اگر جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے یہ لوگ علاوہ طب کے عربی کی تعلیم کی جماعتیں بھی کھول دیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں مختلف علاقوں میں احمدیت کے مرکز قائم ہو سکتے ہیں۔انشاء اللہ تعالی۔در حقیقت طب تعلیم اور تجارت یہ تین بہترین ہتھیار تبلیغ کے ہیں اور انہی کے ذریعہ تبلیغ کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ہم نے تحریک جدید کے کام میں تجربہ کیا ہے کہ تعلیم کا ہتھیار اور علاج کا ہتھیارا کثر جگہ نہایت کامیاب ہوا ہے اور اشد ترین دشمن جو پہلے نفرت کرتے تھے، محبت سے پیش آنے لگ گئے ہیں۔اسی طرح یہ بھی فیصلہ کر لینا چاہئے کہ جو طلبا جامعہ کی آخری جماعتوں سے فارغ ہو کر نکلیں ان کو سلسلہ کی کارکنی کے لئے دوسروں پر ترجیح دی جائے۔اس طرح بھی ان جماعتوں کے طلبا کے لئے کام نکل سکتا ہے اور یہ جماعتیں بند کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔اس فوری بچت کے علاوہ بعض اور اصلاحات بھی میرے ذہن میں ہیں جن پر غور کر لیا جائے۔یہ اصلاحات بھی آئندہ چند سال میں جا کر اخراجات میں خاص کمی کر دیں گی اور موجودہ حالات کے لحاظ سے کام میں بھی ان سے ترقی ہو جائے گی۔(۱) مدرسہ احمدیہ کی نسبت میرا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے اور اب بھی ہے کہ اگر حالات مساعدت کریں تو اس کی جماعتیں شروع سے الگ رہیں تا کہ دین کا خالص ماحول پیدا ہو جائے اور میں ہمیشہ اس امر پر زور دیتارہا ہوں کہ اس کی چھوٹی جماعتیں بھی الگ رہیں۔لیکن عملاً آکر ایک وقت معلوم ہوئی ہے 672