تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 54
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول چونکہ میرے مدنظر ہے اس لئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ملازموں کو بھی وہی کھانا کھلاؤ جو خود کھاؤ۔وہ لوگ جنہوں نے کئی ملازم رکھے ہوئے ہوں یا پرورش کے طور پر کچھ لوگوں کو رکھا ہوا ہو ان کی مشکلات کو مد نظر رکھتا ہوا میں یہ نہیں کہتا کہ ان کے ہاں ایک ہی کھانا پکے جبکہ شریعت میں اس کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہ شرط ضرور لگاتا ہوں کہ وہ اس کھانے کو جو ملازمین وغیرہ کے لئے پکے خود استعمال نہ کریں اور اگر استعمال کریں تو جھجر کے ایک نواب صاحب کی طرح کریں جن کے متعلق کہتے ہیں کہ کھانا تیار ہونے کے بعد وہ باورچی کو بلا کر کہتے کہ تم نے میرے لئے جو سب سے اچھا کھانا پکایا ہے وہ لے آؤ ! جب وہ لے آتا تو اپنے ایک خاص ملازم کو دے کر کہتے کہ یہ لے جاؤ اور کسی فوجی سپاہی کو دے کر اس کا کھانا لے آؤ اور اس طرح اس کا کھانا منگا کر کھا لیتے۔بعض کا خیال ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ کھانے میں انہیں زہر نہ دے دیا جائے اس لئے ہر روز کسی نئے سپاہی کے کھانے سے اپنے کھانے کا تبادلہ کر لیتے لیکن بعض کا خیال ہے کہ وہ سپاہی منش تھے اور چاہتے تھے کہ سپاہیانہ روح قائم رہے اور کمزوری نہ پیدا ہو۔مومن چونکہ نیک گمان رکھتا ہے ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ سپاہیانہ زندگی کے قیام کے لئے ایسا کرتے تھے۔پس اگر کسی کو خواہش پیدا ہو کہ ملازم کے لئے جو کھانا پکا ہے وہ خود کھائے تو اپنا کھانا اسے دے دے یہ نہیں کہ ملازموں کے نام سے دوسرا کھانا تیار کر لیا جائے اور پھر اس میں خود بھی شرکت کر لی جائے۔بعض لوگ پوچھتے ہیں کیا چٹنی کھانی جائز ہے؟ انہیں میں کہتا ہوں جو کام کرو اخلاص اور دیانت سے کرو۔اس تحریک کی غرض اقتصادی حالت کا درست کرنا اور چسکوں سے بچانا ہے۔پس اگر کسی دن طبیعت خراب ہوئی اور سادہ چٹنی کی ضرورت محسوس ہوئی تو اور بات ہے لیکن ان بہانوں سے منہ کے چسکے پیدا کرنے سے کیا فائدہ ہے ؟ اس سے بہتر ہے کہ انسان تحریک میں شامل ہی نہ ہو۔پس کبھی کبھار اور ضرورتاً استعمال میں حرج نہیں ورنہ بہانہ خوری سمجھی جائے گی۔اب میں ساتواں مطالبہ پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس وقت کی تبلیغی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر ان تمام مطالبات کے باوجود جو میں کر چکا ہوں ہماری تبلیغی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں اور پھر بھی ہماری مثال اُحد کے شہیدوں کی سی رہتی ہے کہ اگر کفن سے ان کے سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگے ہو جاتے کیونکہ اس وقت اتنا کپڑا میسر نہ تھا جو پورا آسکتا ہماری بھی اس وقت یہی حالت ہے ہم اگر ایک طرف توجہ کرتے ہیں تو دوسری جہت خالی رہ جاتی ہے اور اگر دوسری جہت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو پہلی خالی ہو جاتی ہے ایسی صورت میں ضروری ہے کہ تبلیغی کوششوں کی کوئی اور راہ بھی 54