تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 625
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء ایسی نیکی میں حصہ لیا ہے کہ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود تمہارے اعمال کا ذمہ دار ہو گیا ہے اور وہ تمہیں ہر قسم کے بُرے انجام سے محفوظ رکھے گا“۔وو میں سمجھتا ہوں کہ تحریک جدید کا کام بھی اسی قسم کا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ جماعت کے مخلصین کی ایک مستقل یاد گار قائم کرنا چاہتا ہے اور ان کی روحوں کو ان کی وفات کے بعد بھی مستقل طور پر ثواب پہنچانا چاہتا ہے کیونکہ اس چندے کے ذریعہ اشاعت اسلام کی ایک مستقل بنیاد پڑنے والی ہے۔پس تحریک جدیدا اپنے اندر اس قسم کی برکات رکھتی ہے اور اس قسم کے انوار اتر تے محسوس ہور ہے ہیں کہ یہ امر صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ جو لوگ اس میں حصہ لیں گے انہیں اللہ تعالیٰ اپنے قرب کا کوئی خاص مقام عطا فرمائے گا۔دو چار دن ہوئے الفضل میں قاضی اکمل صاحب کا ایک مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کے متعلق شائع ہوا ہے جو تحریک جدید کے ذریعہ پوری ہوئی۔وہ دراصل ایک پرانا کشف ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا۔آپ فرماتے ہیں ایک دفعہ کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں، ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب۔پہلے میں نے اس شخص کو جوز مین پر تھا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ چپ رہا۔پھر میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اسے میں نے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔اس نے کہا ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس کا یہ جواب سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ پانچ ہزار اگر چہ تھوڑے آدمی ہیں لیکن اگر خدا چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں اور میں نے کشفی حالت میں ہی یہ آیت پڑھی کہ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ (القر : 250) قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ اس رؤیا کے متعلق میرے دل میں یہ خیال گزرا کہ یہ تحریک جدید میں قربانیاں کرنے والوں کے ذریعہ پورا ہورہا ہے۔چنانچہ میں نے منشی برکت علی صاحب فنانشل سیکرٹری سے پوچھا کہ تحریک جدید کے چندہ میں حصہ لینے والوں کی کس قدر تعداد ہے تو انہوں نے بتایا کہ پانچ ہزار چارسو بائیں۔چونکہ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ناد ہند ہوتے ہیں اس لئے اگر ان کو نکال دیا جائے تو پانچ ہزار ہی تعداد بنتی ہے۔علاوہ ازیں کسور بالعموم اعداد میں شمار نہیں کئے جاتے۔پس پانچ ہزار چارسو دراصل پانچ ہزار ہی ہیں لیکن اگر کسور کو بھی شامل کر لیا جائے تو میں نے بتایا ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسے لوگوں کی تعداد بھی 625