تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 620

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول تحریک جدید کے واقفین ایک قلیل گزارہ لے رہے ہیں مگر عقلاً انہیں بغیر گزارہ کے ہی کام کرنے والے سمجھنا چاہئے کیونکہ ان کے گزارے ان کی لیاقتوں اور ضرورتوں سے بہت کم ہیں۔مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اگر بغیر گزارہ کے کام کرنے والے آدمی بھی ہمیں ملیں تو بھی اس کام کیلئے جو ان سے لیا جانا ہے، سرمایہ کی ضرورت ہے۔کچھ ان کے قلیل گزارہ کیلئے اور کچھ غیر ممالک میں تبلیغ اسلام اور لٹریچر وغیرہ کی اشاعت کیلئے۔اگر ہماری جماعت کے آدمی کتا بیں نہیں لکھتے یا اگر لکھتے ہیں تو شائع نہیں ہوتیں تو محض اس لئے کہ روپیہ نہیں ہوتا۔پس میر امنشا یہ ہے کہ جہاں نو جوان بغیر روپیہ کے کام کرنے والے ہوں وہاں روزمرہ کے کاموں کیلئے روپیہ کا ایک ریز روفنڈ جائیداد کی صورت میں ہو، تا اگر کسی وقت جماعت سے چندہ نہ ملے یا چندہ لیا نہ جا سکے تو تبلیغ کے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور مستقل آمد ایسی ہو جس سے تمام کام بخوبی چلتا چلا جائے۔میں نے آج سے کچھ سال پہلے 25 لاکھ ریز روفنڈ کی تحریک کی تھی مگر وہ تو ایسا خواب رہا جو تشنہ تعبیر ہی رہا مگر اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید کے ذریعہ اب پھر ایسے ریز روفنڈ کے جمع کرنے کا موقعہ ہم پہنچا دیا ہے اور ایسی جائیدادوں پر یہ روپیہ لگایا جا چکا ہے اور لگایا جارہا ہے جس کی مستقل آمد چھپیں تھیں ہزار روپیہ سالانہ ہوسکتی ہے تا تبلیغ کے کام کو بجٹ کی کمی کی وجہ کوئی نقصان نہ پہنچے۔اگر ہم سو واقفین رکھیں جو میرا مقصود ہے اور جن کو میں دوسرے دور میں تیار کرنا چاہتا ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے اخراجات کی اوسط پچاس روپیہ ماہوار رکھیں تو پانچ ہزار روپیہ ماہوار اور ساتھ ہزار روپیہ سالانہ بنتا ہے مگر یہ عملہ کا خرچ ہے اور میں بتا چکا ہوں کہ سائز کے اخراجات کم از کم تین گنے زیادہ ہونے چاہئیں جولٹریچر کی مفت تقسیم یا دواؤں کی مفت تقسیم یا سفر خرچ وغیرہ پر خرچ ہونا چاہئے۔اس لحاظ سے دو لاکھ چالیس ہزار روپیہ بنتا ہے جس کی سالانہ ہمیں ضرورت ہوگی اور گوسر دست یہ ایک واہمہ اور خیال ہے مگر جس رنگ میں تحریک جدید کے سرمایہ سے مستقل جائیداد میں تیار ہورہی ہیں اس سے تھیں چالیس ہزار روپیہ سالانہ تک آمد ہو سکتی ہے بلکہ انشاء اللہ اس سے بھی زیادہ اور چونکہ اگر 24 نوجوان ہوں تو ان کے لحاظ سے ساٹھ ہزار روپیہ کا سالانہ بجٹ بنایا جاتا ہے اس لئے 24 نو جوانوں کے اخراجات کا بجٹ قریباً قریباً اس جائیداد سے پورا ہو سکتا ہے اور چونکہ دور ثانی میں ابھی چھ سال باقی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کوشش کرے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے آسانی کے ساتھ ایسی جائیدادیں پیدا کی جاسکتی ہے جن سے تبلیغ کا کام بسہولت ہوتا رہے اور اس کیلئے بعد میں کسی خاص جدو جہد کی 620