تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 614

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول جماعت میں ہوا کرتے ہیں اور وقتی مؤمن سے میری مراد وہ لوگ ہیں جو لڑائی جھگڑے کے وقت تو آگے آجاتے ہیں مگر جب مستقل اور لمبی قربانیوں کا موقعہ آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔وہ جان دینے کیلئے تو فوراً تیار ہو جائیں گے اور اگر جنگ ہو اور انہیں کہا جائے کہ فوج میں بھرتی ہو جاؤ اور ملک کی عزت کیلئے جان دے دو تو وہ بالکل نڈر ہو کر فوج میں شامل ہو جائیں گے اور دشمن سے لڑ کر اپنی جان دے دیں لیکن اگر انہیں کہا جائے کہ پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ روزانہ فلاں کام کیلئے وقت دو تو چند دنوں کے بعد ہی وہ عذرات پیش کر دیں گے کہ آج ہماری بیوی بیمار ہے، آج بچے اچھے نہیں، آج اپنی طبیعت ناساز ہے اور اس طرح وہ کام سے بچنا شروع کر دیں گے۔یہ وقتی اور ہنگامی مؤمن ہوتے ہیں اور یہ ہنگامی مؤمن ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں۔یہی ہنگامی مؤمن کبھی کبھی منافق بھی بن جاتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک تو مستقل منافق ہوتا ہے اور ایک یہ ہنگامی مؤمن ہوتا ہے جو بعض دفعہ جوش میں آکر مؤمنانہ کام کر لیتا ہے اور بعض دفعہ ایسی حرکات کا ارتکاب کر لیتا ہے جن سے خدا تعالیٰ کو اپنے اوپر ناراض کر لیتا اور منافق بن جاتا ہے۔پس ہنگامی مؤمن کا انجام محفوظ نہیں لیکن جو مستقل مؤمن ہوں ان کا انجام خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے وو اور انہیں ہر قسم کے بعد انجام سے بچالیتا ہے۔تو سستوں کا ہر جماعت میں ہونا لازمی ہوتا ہے مگر ان کی وجہ سے کام کو نقصان نہ پہنچنے دینا ہمارا فرض ہے اور ان لوگوں کی اصلاح ہم پر لازمی ہے اور ہم یہ کہہ کر ہر گز بری نہیں ہو سکتے کہ ہم نے قربانی کر دی ہے۔اگر چندلوگوں نے قربانی نہیں کی تو ہم کیا کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں بیدار کرتے رہیں۔ان کی نیند اور غفلت کو دور کریں اور انہیں چست اور ہوشیار بنا ئیں۔اگر ہم اپنی اس ڈیوٹی کو چھوڑ دیں تو ہم خدا تعالیٰ کے بھی مجرم ہوں گے اور اپنی قوم اور اپنے نفس کے بھی مجرم ہوں گے اسی لئے میں ہمیشہ ایسے لوگوں کو چست کرتا رہتا ہوں اور جو پہلے ہی بیدار ہوں انہیں اور زیادہ بیدار کرتارہتا ہوں تا کہ وہ بھی کسی وقت سست نہ ہو جا ئیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کو جوست ہیں چست اور ہوشیار بنائیں اور جو چست ہیں انہیں وقتی مومنوں کی صف سے نکال کر کامل الایمان لوگوں کے ساتھ شامل کریں اور اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً ہم دوہرے ثواب اور دو ہرے درجہ کے مستحق ہوں گے لیکن اگر ہم اپنے اس فرض کی ادائیگی میں کوتا ہی کریں تو ہم یہ کہ کر ہر گز بری نہیں ہو سکتے کہ ہم تو بچ گئے ہیں۔خدا تعالیٰ ہم سے پوچھے گا کہ تم تو بے شک بچ گئے لیکن جن اور لوگوں کو بچانا تمہاری طاقت میں تھا ان کو تم نے کیوں نہیں بچایا ؟ میں تحریک جدید کے دور ثانی میں مستقل کام کی داغ بیل ڈالنے کیلئے مالی تحریک کے علاوہ کہ وہ 614