تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 593

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 11 نومبر 1938ء آئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اور اگر آج یہ خزانہ کہیں موجود ہے تو جماعت احمدیہ میں۔پھر خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے روحانی ترقیات کا جو دروازہ کھول دیا ہے، امید کے دودھ سے لبریز پیالہ جو دیا ہے وہ بھی ہمارے سوا کسی کے پاس نہیں۔تمام مسلمان آپ کی ذات کو مایوس اور افسردگی کا پیغام قرار دیتے ہیں اور ایک ایسی دیوار ظاہر کرتے ہیں جو افضال الہی کے دروازہ کے آگے کھڑی ہے۔صرف ایک ہی شخص ہے جس نے بتایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دروازہ کو بند کرنے والی دیوار نہیں ہیں بلکہ ایک بند دیوار کا دروازہ ہیں جو خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان حائل تھی۔ختم نبوت بند کرنے والی دیوار نہیں بلکہ ایک وسیع دروازہ ہے جس سے ہو کر بندہ خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ خدا تعالٰی اور بندے کے تعلقات منقطع ہو گئے بلکہ یہ ہیں کہ زیادہ کثرت اور وسعت کے ساتھ خدا تعالیٰ آپ کے وجود میں سے ہو کر بندے تک پہنچے گا۔یہ وہ عظیم الشان امید کا دروازہ ہے اور امنگیں پیدا کرنے والی تعلیم ہے جو احمدیت سے باہر نظر نہیں آسکتی۔اگر احمدیت نہ ہو تو یہ خزانہ پھر مٹ جاتا ہے۔یہ امور دنیا سے مخفی تھے اور صرف احمدیت کے ذریعہ ہی ظاہر ہوئے۔بے شک ظاہری علماء کی دنیا میں کمی نہیں تھی اور نہ ہے۔عربی کے ایسے بڑے بڑے عالم دنیا میں موجود ہیں جو ہمارے بڑے بڑے علماء کو برسوں پڑھا سکتے ہیں۔روایات حدیث کی چھان بین کے ایسے ایسے ماہر دنیا میں موجود ہیں۔صرف و نحو کے ایسے ایسے ماہر میں موجود ہیں جو ہمارے علماء کو برسوں پڑھا سکتے ہیں لیکن یہ ایک قشر ہیں۔ایک مکان جب تیار کیا جاتا ہے تو اس کے باہر سفیدی کرنے اور پھول اور بیل بوٹے بنانے کے بعد والے بھی مفید کام کرنے والے ہوتے ہیں لیکن اگر عمارت بنانے کے بعد اس میں رہنے والے میسر نہ ہوں تو وہ عمارت کسی کام کی نہیں۔تغلق خاندان کے ایک بادشاہ نے ایک نیا شہر آباد کیا تھا اور وہ لوگوں کو جبراً وہاں لے گیا مگر دوسرے سال لوگ پھر وہاں سے بھاگ آئے اور وہ اُجاڑ ہو گیا۔تو جب تک قرآن کریم کا مغز اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حقیقی روح نہ ہو کسی میں خالی علم کا ہونا کسی کام کا نہیں۔جہاں تک عرفان کا تعلق ہے وہ جاہل ہیں اور ہمارے جاہل بھی ان سے زیادہ عالم ہیں۔اگر دولت صرف روپوں اور پونڈوں کا نام نہیں اور یقینا نہیں تو ہمیں وہ خزانہ ملا ہے جس کے مقابل میں دنیا کے سب خزانے بیچ ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اس خزانہ کو محفوظ رکھیں۔کسی شخص کی جیب میں اگر دس بیس روپیہ کے نوٹ ہوں تو وہ بار بار جبیب پر ہاتھ مارتا ہے۔دو چار سور و پیہ ہو تو بڑی احتیاط سے اس 593