تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 592

اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 11 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول کیل موٹا ہو تو اسے رگڑ رگڑ کر ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔پھر یورپ کے لوگ جن کی کھٹی میں یہ چیزیں داخل ہیں۔ان کو ایک دن میں کس طرح چھوڑ سکتے ہیں؟ مگر یہ سب باتیں احمدیت میں ہی مل سکتی ہیں۔اگر یہ مٹ جائے تو قرآن بھی ساتھ ہی مٹ جاتا ہے، اگر یہ مٹ جائے تو اسلام کے احکام کی حکمت بھی ساتھ ہی مٹ جاتی ہے۔پھر جماعت احمدیہ ہی ایک ایسی جماعت ہے جس نے خدا تعالیٰ کیلئے اپنی تمام طاقتوں کو لگا دیا ہے۔اس کے سوا کوئی جماعت ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کیلئے کوئی کام کرتی ہو۔مصر، فلسطین، عرب، افغانستان ، ترکی اور خود ہندوستان میں نئی نئی ترقیات ہو رہی ہیں مگر ان کا محور کہیں بھی خدا تعالیٰ کی ذات نہیں۔سب تحریکات وطنی اور قومی ہیں اور خدا تعالیٰ کا خانہ سب جگہ خالی ہے۔اگر کوئی جماعت دعوی کے لحاظ سے بھی ایسی ہے تو وہ صرف ایک احمدیہ جماعت ہے۔یہ کوئی سوچنے والی بات نہیں اس میں کسی غور اور فکر کی ضرورت نہیں۔دنیا میں کوئی اور جماعت ایسی پیش کرو جو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کیلئے کام کر رہی ہو۔یقیناً ایسا نہ کر سکو گے۔مصری ، ترکی، عربی اور ہندوستان کی سب مذہبی اور سیاسی تحریکات میں سے کوئی ایسی نہیں جس کی یہ غرض ہو۔ہندوستان کی جمیعۃ العلماء بھی آج یہی کہہ رہی ہے کہ کانگرس کے ساتھ شامل ہوئے بغیر اسلام زندہ نہیں رہ سکتا اور ظاہر ہے کہ جس اسلام کو زندہ رہنے کے لئے کانگریس کی مدد درکار ہے اس کی حقیقت کو ہر مسلمان خود سمجھ سکتا ہے۔غرضیکہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں نہ چھوٹی نہ بڑی جو خدا تعالی کیلئے کام کرتی ہو۔صرف یہی ایک جماعت احمدیہ ہے جو محبت الہی کے محور کے گرد گھومتی ہے اور جس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو کھینچ کر خدا تعالیٰ کے پاس لایا جائے۔دنیا میں لوگ مال کی قربانیاں بھی کرتے ہیں اور جذبات کی بھی مگر ان میں سے کوئی بھی خدا تعالٰی کے لئے نہیں ہوتی سب ذاتی یا خاندانی یا قومی اغراض کے ماتحت ہوتی ہیں۔خدا تعالی کیلئے کوئی نہیں ہوتی۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مرتبہ اور درجہ کی صحیح شناخت بھی احمدیت سے باہر نظر نہیں آتی۔منہ سے کہنا کہ ہم آپ کے عاشق ہیں اور بات ہے لیکن ان لوگوں کی تقریروں کو اگر سنو تو اگر وہ ہمارے دلائل کی خوشہ چینی نہیں کرتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نقل نہیں کرتے تو ان میں سوائے اس کے کچھ نہیں ہو گا کہ آپ کملی والے ہیں، آپ کی زلفیں ایسی تھیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یہی خوبیاں تھیں جن کیلئے اللہ تعالیٰ تیرہ سو سال سے دنیا میں لڑائیاں ، جھگڑے اور خونریزیاں کراتا رہا ہے۔ان کے ذہن اس سے آگے نہیں جاتے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خلق، انسانی روح کی ترقی کے مدارج کا بیان اور اس کی ترقی کیلئے روحانی نور کا مہیا کرنا۔یہ ساری خوبیاں ان کی نظر سے پوشیدہ ہیں۔اگر یہ خوبیاں کسی کے سامنے 592