تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 571

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول تقریر فرموده 13 ستمبر 1938ء مجاہدین تحریک جدید کو حضور کی اہم ہدایات حضور نے فرمایا: تقریر فرمودہ 13 ستمبر 1938ء ایک نہایت اہم امر یا د رکھنے کے لائق یہ ہے اور میں نے اس کا تجربہ کیا ہے کہ محنت صرف اچھی صحت سے نہیں ہوتی بلکہ بشاشت قلب سے ہوتی ہے۔اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح محسوس کرنا چاہئے ، عذرات تلاش نہیں کرنے چاہیں کہ ان وجوہ کی بنا پر نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔صرف عام روزانہ معمول کے کام پر ہی اپنی توجہ کو ملتی نہیں کرنا چاہئے بلکہ ترقی کرنے والی قوموں کی طرح اپنا ہر ایک قدم ترقی کی طرف بڑھانا چاہئے اور نئے نئے کام سوچنے چاہئیں کیونکہ عام مقررہ کام کسی سلسلہ کی زندگی کو تو برقرار رکھ سکتے ہیں لیکن اس کا قدم ترقی کے مینار کی طرف نہیں بڑھا سکتے۔ہمیں ہر وقت یہ امر سوچنا چاہئے کہ کون کون سے کام اور ہیں جنہیں ہم نے کرنا ہے۔اس وقت کے مخالفین سلسلہ کیا کیا تدبیریں کر رہے ہیں اور ہمیں ان کے دفاع کے طور پر کون کون سا اقدام کرنا چاہئے۔اسی غرض کو پورا کرنے کیلئے میں نے وقف زندگی کی تحریک کی تھی۔تحریک جدید سے ایک غرض یہ بھی ہے کہ اس امر کی کوشش کی جائے کہ روپیہ کے بغیر کام کیا جائے یا حتی الوسع نہایت کم خرچ سے کام کو چلایا جائے کئی نامور مالدار تاجروں نے نہایت معمولی پیمانے سے کام شروع کیا اور اسی سے بہت بڑی ترقی کی۔جب تک ہم یہ نہیں سمجھ لیتے کہ نتیجہ کے ذمہ دار ہم ہیں اس وقت تک ہم ترقی نہیں کر سکتے۔دو مسائل کے غلط مفہوم نے مسلمانوں کو ترقی سے روک رکھا ہے۔(1) اس مقولہ نے کہ کام کرنا انسان کا کام ہے اور نتیجہ نکالنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔بندے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔(2) مسئلہ تقدیر کے غلط مفہوم نے کہ کسی چیز کا حاصل کرنا انسان کے اپنے بس کی بات نہیں۔می دونوں باتیں اپنے صحیح مفہوم کے لحاظ سے بالکل درست ہیں لیکن جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کی نسبت فرمایا تھا کہ 571