تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 569
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول تحریک جدید کیا ہے؟ اقتباس از تقریر فرموده 31 جولائی 1938ء تقریر فرمودہ 31 جولائی 1938ء بر موقع جلسہ تحریک جدید آج تحریک جدید کے دور دوئم کے سال اول کا جلسہ ہے۔تحریک جدید کیا ہے؟ میں چار سال سے سنا تا آرہا ہوں کہ تحریک جدید وہ قدیم تحریک ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جاری کی گئی تھی۔انجیل کے محاورہ کے مطابق ایک پرانی شراب ہے جو نئے برتنوں میں پیش کی جارہی ہے مگر وہ شراب نہیں جو بد مست کر دے اور عقلوں پر پردہ ڈال دے بلکہ وہ شراب جس کے متعلق قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ اس کہ پینے سے نہ تو سر دُکھے گا اور نہ ہی انسان بہکی بہکی باتیں کرے گا۔ایک نور تھا جومحمدصلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں لائے۔ایسا نور جو اس سے پہلے دنیا کو بھی نہیں ملا۔کیسی نابینا آنکھیں ہیں وہ ، کیسے کورے دل ہیں وہ اور کیسے خر دماغ ہیں وہ جو قرآن کریم ، انجیل اور بائبل اور دوسری مذہبی کتابیں دیکھتے ہیں اور پھر انہیں قرآن کریم کی خوبی اور برتری نظر نہیں آتی۔وہ حسن کا مجموعہ اور جلوہ الہی کا آئینہ ہے۔جس کے لفظ لفظ سے خدا تعالیٰ کی شان نیکتی اور جس کے حرف حرف سے اللہ تعالیٰ کے وصال کی بُو آتی ہے۔کون سی کتاب ہے جو اس کے مقابلہ میں ٹھہر سکے مگر افسوس مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی اس پاک کتاب کی طرف سے توجہ ہٹالی اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو مسلمانوں نے پس پشت ڈال دیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق خدا تعالٰی نے ایک فارسی الاصل انسان کو مبعوث فرمایا جسے خدا نے کہا کہ جاؤ اور قرآن کریم کے نور کو دنیا میں پھیلا ؤ، جاؤ اور ہماری صداقت سے دنیا کو روشناس کرو۔اس نے اللہ تعالیٰ کے نور کو دنیا میں قائم کیا اور ایک ایسی جماعت قائم فرمائی جو صحابہ رضی اللہ عنہم کا نمونہ ہے اور اس پر بھی وہی ذمہ داریاں عائد ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر تھیں۔ایک روحانی جنگ ہے جو اس وقت لڑی جارہی ہے۔ایسی حالت میں یہ خیال کر لینا کہ آج یا کل یا پرسوں ہماری جماعت کا کام ختم ہو جائے گا اور وہ آرام کا سانس لے سکے گی، بالکل غلط ہے۔الہی سلسلوں میں وہی لوگ ثابت قدم رہا کرتے ہیں جن کے ایمان بغیر شرط کے ہوں۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۃ تو بہ کے چھٹے رکوع میں فرماتا ہے کہ اے 569