تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 562
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 جون 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول مشترک ہو یا الگ الگ بہت فائدہ ہوگا۔اب تو یہ حالت ہے کہ مثلا جن باتوں کا تعلق عورتوں سے ہے ہم ان پر زور نہیں دے سکتے کیونکہ مردوں نے ان کو اطلاع بھی نہیں دی۔سادہ زندگی اختیار کرنے اور اسراف سے بچنے میں عورتیں بہت بڑی روک ہوتی ہیں اور اگر ہم نے دنیا میں اسلام کے صحیح نقش و نگار کو قائم کرنا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ سب روکوں کو دور کریں میں نے دیکھا ہے کہ چونکہ ہماری جماعت کی عورتوں اور بچوں کی تربیت صحیح رنگ میں نہیں ہوتی اس لئے مرد جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو وہ ان کے رستہ میں روک ہو جاتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ بعض عورتیں مردوں سے بھی بڑھی ہوئی ہیں بلکہ بعض میرے پاس شکایتیں کرتی رہتی ہیں کہ ہمارے مردست ہیں۔فلاں مرد نماز نہیں پڑھتا، فلاں چندہ میں ست ہے اور ان میں مردوں سے بھی زیادہ اخلاص ہے۔یہ عورتیں اللہ تعالیٰ کے دفتر میں یقیناً اپنے مردوں سے افضل ہیں اور ان کے مرد خدا تعالیٰ کے دفتر میں ان کی رعایا ہیں۔اور وہ جبرا ان سے وصول کر کے دیتی ہیں۔پس عورتوں اور بچوں کی تربیت اگر صحیح رنگ میں کی جائے تو بہت اچھے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اس لئے میری یہ تجویز ہے کہ آج سے لے کر جولائی (1938ء) کے آخری ہفتہ تک قادیان کی بھی اور بیرون جات کی بھی تمام جماعتیں جلسے کریں اور تحریک جدید کے مطالبات کی طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کو متوجہ کریں اور جنہوں نے چندے لکھوائے ہوئے ہیں ان کو تحریک کریں کہ فوراً ان کو ادا کریں بلکہ کوشش کریں کہ اس جلسہ تک تمام چندے ادا ہو جا ئیں اور جنہوں نے گزشتہ وعدے پورے نہیں کئے ان کو تحریک کریں کہ وہ آئندہ ہی پورے کریں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں اگر کسی نے پہلے ستی کی ہے تو وہ آئندہ اس کا ازالہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ پیچھے آئے مگر بہتوں سے آگے نکل گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پہلے ایمان لائے تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بعد میں ایمان لائے مگر سب سے آگے بڑھ گئے۔پس اگر کسی کے اندر کچی تو بہ اور حقیقی ایمان اور تبدیلی پیدا ہو جائے تو وہ اپنی گزشتہ ستوں اور غفلتوں کا ازالہ کر سکتا ہے۔ہاں اس کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اپنے دل کا خون کرنا ہوتا ہے اور اگر چند گھنٹے کے لئے بھی کوئی دل کو خون کر دے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔پس مت 562