تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 543

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1938ء میں نے ایک دفعہ ایک ولائتی اخبار میں لطیفہ پڑھا کہ فرانس میں جہاں فیشن کا سب سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ایک عورت جو فیشن میں خاص طور پر مشہور تھی ایک دکان سے ایک ٹوپی خرید کر نکلی اتفاق سے اسے راستہ میں ایک فیشن کی ملکہ نظر آگئی۔یورپ کے ہر ملک میں چار پانچ ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو فیشن کی ملکہ کہلاتی ہیں یعنی جو لباس وہ پہنتی ہیں وہی فیشن سمجھا جاتا ہے۔ان کے لباس کے خلاف اگر کوئی عورت لباس پہنے تو اس کا لباس فیشن کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔جب اس نے اس فیشن کی ملکہ کو دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ اس نے اور قسم کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر اس نے وہی ٹوپی جو اس نے ابھی خریدی تھی ، سر سے اتار کر اپنی بغل کے پیچھے دبالی تاکہ کوئی اسے اس ٹوپی کے ساتھ دیکھ نہ لے۔یہ فیشن پرستی جنون بھی ہے اور قومی اتحاد کو تباہ کرنے والی بھی۔ہمارے ملک میں بھی جو مغربی لباس پہنے والوں کی نقل کرتے ہیں۔انہیں دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ آدمی ہیں بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشینیں ہیں جن پر کپڑے لیٹے ہوئے ہیں۔ہر وقت، اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے انہیں یہی خیال رہتا ہے کہ کپڑے کو شکن نہ پڑ جائے ، اس پر داغ نہ لگ جائے ، اس میں سلوٹ نہ پڑ جائے۔بھلا ایسے دماغ کو خدا کے ذکر کے لئے کہاں فرصت مل سکتی ہے؟ دماغ نے تو آخر ایک ہی کام کرنا ہے۔جسے اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے یہی خیال رہتا ہو کہ پتلون کو شکن نہ پڑ جائے ، کوٹ میں کوئی سلوٹ نہ آجائے اس نے بھلا اور کیا کام کرنا ہے؟ اس کے دماغ کا بہت سا وقت تو اپنے لباس کی درستی میں ہی لگ جاتا ہے۔در حقیقت اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہمارا دماغ اور باتوں سے فارغ ہو اور پا تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہو یا بنی نوع انسان کی بہتری کیلئے تدابیر سوچ رہا ہو اور حق بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان باتوں میں ہمہ تن مشغول ہو تو اسے یہ موقعہ ہی نہیں ملتا کہ وہ لباس کی درستی کی طرف توجہ کرے۔میں نے دیکھا ہے کہ کام کی کثرت کی وجہ سے کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ادھر میں کھانا کھا رہا ہوتا ہوں اور ادھر اخبار پڑھ رہا ہوتا ہوں۔بیویاں کہتی بھی ہیں کہ اس وقت اخبار نہ پڑھیں کھانا کھا لیں مگر میں کہتا ہوں میرے پاس اور کوئی وقت نہیں۔پھر کئی دفعہ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے لباس میں یہ نقص ہے، وہ نقص ہے مگر میں کہتا ہوں کہ مجھے اس بات کا احساس بھی نہیں۔آپ کو معلوم نہیں کہ اس کا کیوں خیال ہے۔حضرت مسیح موعود کو ہم نے دیکھا ہے گو مخالف اس پر ہنسی اڑاتے اور یہ کہتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ پاگل تھے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ آپ کئی دفعہ بوٹ ٹیڑھا پہن لیتے۔دایاں بوٹ بائیں پاؤں میں اور بایاں بوٹ دائیں پاؤں میں۔وہ نادان نہیں جانتے کہ جس کا دماغ اور باتوں کی طرف شدت سے لگا ہوا ہو 543