تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 542

خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سے یہاں آگئے؟ وہ اتفاق سے اس علاقہ میں رہ چکے تھے وہ کہنے لگے کھانا آیا جو تھا آپ نے نہیں کھایا ؟ میں نے کہا کھانا کون سا آیا کچھ چٹنیاں آئی تھیں وہ میں چکھ کر چھوڑتا گیا۔کہنے لگے وہی تو کھانا تھا۔میں نے کہا میں نے سمجھا کہ یہ صرف ہاضمہ کے تیز کرنے کے لئے چٹنیاں آرہی ہیں اور چونکہ مجھے کھانسی کی شکایت تھی میں چکھ کر چھوڑ دیتا تھا کھاتا نہ تھا کہ اصل کھانا بعد میں آئے گا۔کہنے لگے یہی چٹنیاں جو انہوں نے بھجوائی تھیں کھانا تھیں۔تو بعض علاقوں میں چٹنیاں بھی کھانا مجھی جاتی ہیں جیسے میرے ساتھ واقعہ پیش آیا یہاں تک کہ مجھے راستہ میں دریافت کرنا پڑا کہ آیا ہماری یہاں دعوت بھی تھی یا نہیں ؟ اگر اس قسم کی چٹنیاں ہوں تو پھر یہ بھی کھانے میں شمار ہوں گی اور ان میں بھی سادگی اور حد بندی کی ضرورت ہوگی۔لباس کے متعلق بھی بعض دوستوں نے دریافت کیا ہے۔حالانکہ لباس کی سادگی نہایت ضروری چیز ہے۔میں نے دیکھا ہے لباس میں سادگی نہ ہونے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ امیروں اور غریبوں میں ایک مہین فرق ہے۔امیر اپنے کپڑے سنبھالے بیٹھے رہتے ہیں اور ہر وقت انہیں یہ خیال رہتا ہے کہ کہیں کپڑے پر داغ نہ لگ جائے ، کہیں میلا نہ ہو جائے اور اس طرح وہ غرباء سے پرے پرے رہتے ہیں۔پس لباس میں سادگی نہایت ضروری ہے۔بلکہ میں یہاں تک کہوں گا کہ اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک جوڑا ہے اور وہ اسے ایسی احتیاط سے رکھتا ہے کہ ہر وقت اسے یہ خیال رہتا ہے کہیں اس پر دھبہ نہ پڑ جائے کہیں اس پر داغ نہ لگ جائے اور اس طرح غریبوں سے اس کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے تو اس نے ہرگز تحریک جدید کے اس مطالبہ پر عمل نہیں کیا۔اس کے مقابلہ میں اس شخص کو میں زیادہ سادہ کہوں گا جس کے پاس دو یا تین جوڑے کپڑوں کے ہیں اور وہ ان کے متعلق ایسی احتیاط نہیں کرتا جو امارت و غربت میں امتیاز پیدا کر دیتی ہے۔در حقیقت لباس میں ایسا تکلف جو انسانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کا موجب ہو جائے ، جو بنی نوع انسان میں کئی قسم کی جماعتیں پیدا کرنے کا محرک ہو جائے سخت ناپسندیدہ اور فتنے پیدا کرنے والا ہے۔خواہ اس کے پاس ایک جوڑا ہو یا دو ہوں۔پس یہ ہدایت بھی کوئی وقتی ہدایت نہیں بلکہ نل ہدایت ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے انسانوں میں سے تفرقہ دور ہوتا ہے۔مستقل عورتوں میں خصوصاً اعلیٰ لباس کی بہت پابندی ہوتی ہے اور اس میں ان کی طرف سے بڑے بڑے اسراف ہو جاتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض گھر عورتوں کے لباس اور زیور کی وجہ سے ہی برباد ہو گئے ہیں۔انگریز اقتصادی لحاظ سے بہت بڑی محتاط قوم ہے مگر ان میں بھی عورتوں کے لباسوں کے اخراجات کی وجہ سے بڑے بڑے امرانتباہ ہو جاتے ہیں۔عورت بازار میں جاتی اور مختلف فیشنوں کے جنون میں ماری جاتی ہے۔542