تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 539
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1938ء کا وقت بجائے اتوار کے جمعہ کی شام کو رکھا جائے۔اس طرح جمعہ کے استثنا سے فائدہ اٹھا کر وہ ان کی خاطر مدارات کے لئے ایک سے زائد کھانے تیار کر سکتے ہیں۔غرض شرعی مسئلہ چونکہ جمعہ کی تائید میں ہے اس لئے میرا میلان طبع اسی طرف ہے کہ بجائے اتوار کے جمعہ کو مستی کیا جائے۔بعد میں اگر دوست اس میں کوئی مشکلات دیکھیں تو وہ بتا سکتے ہیں اور اس پر ہر وقت غور کیا جا سکتا ہے۔فی الحال میں جمعہ کا استثنی کرتا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جمعہ کو ضرور ایک سے زائد کھانے پکائے جائیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی ایسی تقریب ہو جب رشتہ دار یا دوست احباب جمع ہوں یا کوئی مہمان آئے ہوئے ہوں تو ان کی خاطر اگر دو کھانے پکالئے جائیں تو جائز ہوگا۔اس استثنیٰ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے دوستوں نے شکایت کی ہے کہ ہمارے پنجاب اور ہندوستان میں چاول نیم غذا ہے جس کا کبھی کبھی کھانا صحت کے لحاظ سے اور ملک کی آب و ہوا کے لحاظ سے ضروری ہوتا ہے مگر اس حکم سے کہ ایک کھانا کھایا جائے ہم چاول کو بالکل ترک کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ صرف چاول کھانے کی عادت نہیں ہوتی اور روٹی سالن کے علاوہ اگر چاول کھائیں تو دوکھانے ہو جاتے ہیں۔پس ایک کھانا کھانے کی وجہ سے یہ جو دقت پیدا ہو گئی تھی کہ لوگ روٹی ہی کھاتے تھے چاول نہیں کھا سکتے تھے حالانکہ چاولوں کا کبھی کبھی کھانا ہماری ملکی آب و ہوا کے لحاظ سے ضروری ہے۔اس انتلی سے اس کا ازالہ ہو جائے گا اور وہ لوگ جو شکایت کیا کرتے ہیں کہ ایک کھانا کھانے کا حکم دے کر چاول کی غذا بالکل بند کر دی گئی ہے۔انہیں اطمینان ہو جائے گا اور وہ جمعہ کے دن حسب خواہش روٹی کے علاوہ چاول بھی کھاسکیں گے۔دوسرا استثنی جو میں کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دعوتوں کے موقعہ پر میں نے پہلے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر اپنا ہی کوئی احمدی دوست مہمان ہو تو دستر خوان پر میزبان صرف ایک ہی کھانا کھائے لیکن اگر کوئی غیر مہمان ہو تو اس کے ساتھ ایک سے زائد کھانا کھا سکتا ہے اس کے متعلق بعض دوستوں نے شکایت کی ہے کہ یہ پابندی بہت مشکلات پیدا کرتی ہے کیونکہ جب مہمان دوکھانے کھا رہا ہو تو ہم صرف ایک ہی کھانا کھائیں تو یہ امر مہمان پر بہت شاق گزرتا ہے۔پس آئندہ کے لئے میں اس پابندی کو بھی دور کرتا ہوں اور اس امر کی اجازت دیتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا مہمان ہو جس کیلئے ایک سے زائد کھانے پکائے گئے ہوں تو اس صورت میں خود بھی دو سے زائد کھانے کھانے جائز ہوں گے مگر شرط یہ ہے کہ کوئی غیر مہمان ہو یہ نہ ہو کہ اپنے ہی رشتہ دار بغیر کسی خاص 539