تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 43
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود و 23 نومبر 1934ء کہ ہماری مدنی زندگی کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے؟ قادیان بے شک ہمارا مذ ہبی مرکز ہے مگر ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت اور طاقت کا مرکز کہاں ہے؟ یہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں بھی ہو سکتا ہے اور چین، جاپان، فلپائن، سماٹرا، جاوا، روس، امریکہ غرضیکہ دنیا کے کسی ملک میں ہو سکتا ہے اس لئے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ بلاوجہ جماعت کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں، کچلنا چاہتے ہیں تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری مدنی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ ہمیں کیا معلوم ہے کہ کونسی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت قبول کر لیں گے اور ہمیں کیا معلوم ہے کہ جماعت کو ایسی طاقت کہاں سے حاصل ہو جائے گی کہ اس کے بعد دشمن شرارت نہ کر سکے گا ؟ مجھے شروع خلافت سے یہ خیال تھا اور اسی خیال کے ماتحت میں نے باہر مشن قائم کئے تھے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بیرونی مشنوں پر روپیہ خرچ کرنا بے وقوفی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ یہ خیال صرف اسی وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ ایسے لوگوں نے سلسلہ کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اسے ایک انجمن خیال کر لیا ہے۔مذہبی سلسلے ضرور ایک وقت دنیا کے توپ خانوں کی زد میں آتے ہیں اور وہ بھی ظلم و ستم کی تلوار کے سایہ کے بغیر ترقی ہی نہیں کر سکتے۔پس ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مختلف ممالک میں ان کی شاخیں ہوں تا کہ ایک جگہ وہ ظلم و ستم کا تختہ مشق ہوں تو دوسری جگہ پر ان کی امن سے ترقی ہورہی ہو اور تاکہ ان کا ذہبی لٹریچر دشمن کی دست برد سے محفوظ رہے۔جو شخص بھی اس سلسلہ کو آسمانی تحریک سمجھتا ہے اُسے اس امر کے لئے تیار ہونا پڑے گا اور جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ حقیقت میں اس سلسلہ کو بالکل نہیں سمجھتا۔غرض سلسلہ احمدیہ کسی جگہ بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا اس لئے جب تک ہم سارے ممالک میں جگہ تلاش نہ کریں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہماری مثال فقیر کی طرح ہے جو سب دروازے کھٹکھٹاتا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ دنیا میں نئے نئے رستے تلاش کریں اور نئے نئے ممالک میں جا کر تبلیغ کریں۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ کہاں لوگ جوق در جوق داخل ہوں گے؟ چونکہ ہمارا پہلا تجربہ بتاتا ہے کہ باقاعدہ مشن کھولنا مہنگی چیز ہے اس لئے پرانے اُصول پر نے مشن نہیں کھولے جا سکتے اس لئے میری تجویز ہے کہ دو دو آدمی تین نئے ممالک میں بھیجے جائیں ان میں سے ایک ایک انگریزی دان ہو اور ایک ایک عربی دان۔سب سے پہلے تو ایسے لوگ تلاش کئے جائیں جو۔سب یا کچھ حصہ خرج دے کر حسب ہدایت جا کر کام کریں۔مثلاً صرف کرایہ لے لیں آگے خرچ نہ مانگیں یا کرا یہ خود ادا کریں خرچ چھ سات ماہ کے لئے ہم سے لے لیں یا کسی قدر رقم اس کام کے لئے دے سکیں۔اگر اس قسم کے آدمی حسب منشانہ ملیں تو جن لوگوں نے پچھلے خطبہ کے ماتحت وقف کیا ہے ان میں سے کچھ 43