تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 535
یک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء تحریک جدید کا دور ثانی اور دوسری مدات خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تحریک جدید کے متعلق بعض دوستوں کی طرف سے مجھے خطوط موصول ہوئے ہیں کہ اس کی جو دوسری مدات تھیں آیا وہ اب تک جاری ہیں یا نہیں ؟ سو اس بارے میں آج بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔سب سے اول تو یہ بات سوچنے والی ہے کہ اچھی بات آیا وقتی ہوا کرتی ہے یا داگی ؟ بعض باتیں صداقت کی ایسی ہوتی ہیں کہ جو دائی ہوتی ہیں۔ان دائی صداقتوں کو کبھی بھی ترک نہیں کیا جا سکتا اور اگر کسی وقت ان میں کسی قسم کی سہولت روا رکھی جائے تو وہ سہولت وقتی ہوگی اور جب کبھی تبدیلی ہوگی اس سہولت کے دور کرنے میں ہوگی نہ کہ اصل چیز کے دور کرنے میں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شروع زمانہ میں چونکہ عرب میں رواج تھا کہ لوگ گدھے کا گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے اس لئے کو آپ نے اس میں دخل نہ دیا لیکن بعد میں جا کر آپ نے اس سے روک دیا۔در حقیقت گدھا اپنی اخلاقی حالت کے لحاظ سے شروع سے ہی دوسرے ممنوع جانوروں سے مشابہت رکھتا ہے مگر وقتی ضرورتوں اور لوگوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں اس میں دخل نہ دیا یا متعہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں کوئی حکم نہ دیا لیکن دوسرے وقت جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔تو جو چیزیں اپنے اندر کوئی برائی یا عیب رکھتی ہیں ان میں اگر کسی وقت کوئی سہولت دی جاتی ہے تو وہ سہولت عارضی ہوتی ہے۔اصل حکم عارضی نہیں ہوتا۔مثلاً تحریک جدید ہے۔اس میں ایک ہدایت یہ تھی کہ سادہ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اب یہ غور کرنا چاہئے کہ آیا سادہ زندگی اسلام کا کوئی اصل ہے یا ضرورت کے مطابق اس کی ہدایت دی جاتی ہے۔اگر اصل اسلامی تعلیم یہ ہو کہ انسان کو خوب عیاشا نہ طور پر زندگی بسر کرنی چاہیئے تو سادہ زندگی کا حکم عارضی سمجھا جائے گا اور یہ سوال ہر وقت کیا جا سکے گا کہ اب اس ہدایت پر عمل ترک کر دیا جائے یا نہ کیا جائے؟ لیکن اگر اسلام کی اصل تعلیم سادہ زندگی کی ہو تو پھر اس حکم کے متعلق یہ سوال نہیں ہوتا کہ یہ عارضی ہے اسے واپس لے لیا جائے بلکہ یہ 535