تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 38

خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہو گئے ہیں کہ لوگ سنیما کے شوق میں گاؤں چھوڑ کر شہروں میں آکر آباد ہو گئے ہیں اسی طرح کے اور بہت سے حالات ہیں جن پر نظر کر کے میں سمجھتا ہوں کہ یہ چیز دنیا کے تمدن کو برباد کر دے گی مگر میں ہمیشہ کے لئے اس کی ممانعت نہیں کرتا کیونکہ یہ حرمت کی صورت ہو جاتی ہے اور اس کے لئے علماء سے مشورہ کی ضرورت ہے اس لئے فی الحال ضرورت دینی کے لحاظ سے تین سال کے لئے اس کی ممانعت کرتا ہوں اور یہ میرے لئے جائز ہے۔نمائش وغیرہ کے مواقع پر تجارتی حصے کو دیکھنا جائز ہے، کپڑے دیکھو، پیج دیکھو، دوسری چیزوں کو دیکھو اور ان سے اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے فائدے کی باتیں نکالومگر تماشے کا حصہ دیکھنا جائز نہیں۔چھٹا شادی بیاہ کا معاملہ ہے۔چونکہ یہ جذبات کا سوال ہے اور حالات کا سوال ہے اس لئے میں یہ حد بندی تو نہیں کرسکتا کہ اتنے جوڑے اور اتنے زیور سے زیادہ نہ ہوں۔ہاں اتنا مد نظر رہے کہ تین سال کے عرصہ میں یہ چیزیں کم دی جائیں جو شخص اپنی لڑکی کو زیادہ دینا چاہے وہ کچھ زیور، کپڑا اور باقی نقد کی صورت میں دے دے۔ساتواں مکانوں کی آرائش و زیبائش کا سوال ہے اس کے متعلق بھی کوئی طریق میرے ذہن میں نہیں آیا۔ہاں عام حالات میں تبدیلی کے ساتھ اس میں خود بخود تبدیلی ہوسکتی ہے جب غذا اور لباس سادہ ہوگا تو اس میں بھی خود بخو دلوگ کمی کرنے لگ جائیں گے۔پس میں اس عام نصیحت کے ساتھ کہ جو لوگ اس معاہدے میں شامل ہوں وہ آرائش وزیبائش پر خواہ مخواہ روپیہ ضائع نہ کریں اس بات کو چھوڑتا ہوں۔بعض عورتیں پرانے کپڑوں سے بڑی بڑی اچھی زیبائش کی چیزیں تیار کر لیتی ہیں انہیں اجازت ہے کیونکہ اس میں روپیہ کا ضیاع نہیں بلکہ دست کاری کی ترقی ہوتی ہے۔ہاں نئی چیزیں خریدنے پر پیسے خرچ نہ کئے جائیں۔آٹھویں چیز تعلیمی اخراجات ہیں اس کے متعلق کھانے پینے کے متعلق جو خرچ ہوتا ہے اس کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں جو خرچ اس کے علاوہ ہیں یعنی فیس یا آلات اور اوزاروں یا سٹیشنری اور کتابوں وغیرہ پر جو خرچ ہوتا ہے اس میں کمی کرنا ہمارے لئے مضر ہو گا اس لئے نہ تو اس میں میں کمی کی نصیحت کرتا ہوں اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔پس عام اقتصادی حالات میں تغیر کے لئے میں ان آٹھ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں جولوگ ان قربانیوں کو کرنا چاہیں وہ مجھے لکھ کر اس کی اطلاع دیں، جو جماعتیں ایسا کرنا چاہیں وہ ریزولیوشن پاس 38