تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page v
کے مرنے کے بعد کسی اور سے۔بہر حال چھوڑے گا نہیں جب تک تم سے اس کی پابندی نہ کرائے۔فرمایا:۔خطبه جمعه فرموده 13 دسمبر 1935 ء ) پس تحریک جدید کیا ہے؟ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔اس کے آنے میں ابھی دیر ہے۔اس لئے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں غرض تحریک جدید گو وصیت کے بعد آئی ہے مگر اس کے لئے پیشرو کی حیثیت میں ہے گویا وہ نظام اس کے مسیح کے لئے ایک ایلیاہ نبی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا ظہور مسیح موعود کے غلبہ والے ظہور کے لئے بطور ارہاص کے ہے۔ہر شخص جو تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے، وصیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر شخص جو نظام وصیت کو وسیع کرتا ہے۔وہ نظام کو کی تعمیر میں مدد دیتا ہے۔تحریک جدید کے مستقبل کے متعلق فرمایا:۔( نظام نو صفحه 111,112 ) یاد رکھو کہ یہ تحریک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس لئے وہ اسے ضرور ترقی دے گا اور اس کی راہ میں جو روکیں ہوں گی ان کو بھی دور کر دے گا اور اگر زمین سے اس کے سامان پیدا نہ ہوں گے تو آسمان سے خدا تعالیٰ اس کو برکت دے گا۔۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1939 ء ) تحریک جدید کے عظیم الشان نتائج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔" تم اگر تحریک جدید پر عمل شروع کر دو تو آج یا کل یا پرسوں نہیں جب خدا تعالیٰ کی مرضی ہو گی تمہاری قوم کوضرور بادشاہت مل جائے گی“۔خطبہ جمعہ فرمودہ 4 دسمبر (1936 ء ) پس تحریک جدید بھی خلافت کی بے شمار برکات میں سے ایک ہے۔یہ حضرت مصلح موعود نور الله مرقدہ کے ان احسانات میں سے ہے جو آپ نے جماعت پر کئے۔اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا خاص فضل فرمائے۔اور جماعت کو ہمیشہ خلافت کی برکت سے مستفیض فرماتا رہے۔,