تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 477

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء طرف سے ثواب ہے۔پس وہ جو مالی وسعت رکھتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ اپنی زندگی کے دن اچھے بنالو اور ثواب کا جو یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو اور جولوگ پہلے سے بھی زیادہ بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ تم نے پہلے بھی ثواب کمایا اور اب اور ثواب کمالو کہ خدا نے تمہارے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دیئے۔مگر وہ جو طاقت رکھنے کے با وجود اس میں حصہ نہیں لیتا۔اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور جو اس چندہ میں حصہ لینے سے بالکل معذور ہے اس پر ہرگز کوئی گناہ نہیں۔نہ میری طرف سے اور نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے۔گویا اس سال میری تحریک یہ ہے کہ اپنے پہلے سال کے چندہ کے برابر چندہ دو اور جو اس قدر نہ دے سکتا ہو وہ کم دے۔بشرطیکہ اس سے کم چندہ دیا جا سکتا ہو۔مثلاً جس نے پہلے سال دس دیئے تھے اور اس سال وہ دس روپے نہیں دے سکتا تو وہ پانچ دے اور جس نے پانچ دیئے تھے اور اس سال وہ پانچ نہیں دے سکتا وہ کچھ بھی نہ دے کیونکہ پانچ سے کم کوئی رقم اس تحریک میں نہیں لی جاتی۔اسی طرح ہیں روپے دینے والا دس روپے دے سکتا ہے۔تمہیں روپے دینے والا نہیں دے سکتا ہے۔ستائیں اٹھا ئیں نہیں۔کیونکہ ایسا کوئی درجہ مقرر نہیں۔ہاں جس نے ہمیں دیئے تھے وہ چاہے تو ستائیس اٹھائیس دے سکتا ہے کیونکہ وہ زیادتی ہے۔اسی طرح جو شخص سوروپے دے سکتا ہے وہ سو روپے دے اور جوس نہیں دے سکتا وہ پانچ یا پانچ کے اعداد کے لحاظ سے رقم میں کمی کر سکتا ہے۔پس چندہ کے جو درجات مقرر ہیں ان کے مطابق چندہ دو اور جو شخص مقررہ رقوم سے زیادہ رقم چندہ دے سکتا ہے اس سے میں کہتا ہوں کہ وہ زیادہ دے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نزول کی بھی زیادہ امید رکھے۔پس ہر شخص جو ثواب حاصل کرنے کا آرزومند ہے اس سے میں کہتا ہوں کہ ثواب کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں آگے بڑھو اور ان دروازوں میں داخل ہو کر اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرو۔بے شک یہ چندہ نفلی ہے، مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب انسان کو حاصل ہوتا ہے۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے وہ اس نفل کے ذریعہ اس کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔اگلے سال انشاء اللہ تعالیٰ یہ چندہ نوے فیصدی پر آجائے گا اور اس وقت آنوں پائیوں کی کمی بھی جائز ہوگی مثلاً جس نے اس سال پانچ روپے چندہ میں دیئے ہیں وہ اگلے سال ساڑھے چار روپے دے سکے گا اور جس نے دس روپے دیئے ہونگے اس کیلئے نو روپے رہ جائیں گے۔اس طرح جس نے سوروپے دیئے ہونگے اگلے سال اسے نوے روپے دینے گے اور جس نے تین سو روپے دیئے ہونگے اسے دوسو ستر روپے دینے پڑیں گے۔غرض اس سال 477