تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 465
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء تحریک جدید کے تمام مطالبات پر عمل کرنے والے صفات الہیہ کے مظہر بن سکتے ہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1937ء۔البته اگر کسی تلوار سے جہاد بھی شروع ہو جائے تو اس وقت ظاہری طور پر اپنی جانیں قربان کرنا بھی ضروری ہوگا لیکن ایسا جہاد بہت کم ہوتا ہے اور یہ جہاد انسانی زندگی کا کروڑواں حصہ بھی نہیں۔اگر حساب لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی کا کروڑ منٹ اور کاموں میں خرچ ہوا ہے مگر ایک منٹ صرف جہاد پر خرچ ہوا ہے۔پس سر کٹوانے سے وہ سر کٹوانا مراد نہیں بلکہ اپنے نفس کی کل طاقتوں کو خدا تعالیٰ کے احکام کے تابع کر دینا ہے اور انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کو کلیۂ تابع کر دے۔رب العالمین کی صفت کے ماتحت وہ اپنے نفس کو کلیۂ تابع کر دے۔رحمان کی صفت کے ماتحت وہ اپنے نفس کو کلیۂ تابع کر دے۔رحیم کی صفت کے ماتحت وہ اپنے نفس کو کلیۂ تابع کردے۔مالک یوم الدین کی صفت کے ماتحت جو جماعت اور جو قوم یہ کام کر لیتی ہے وہ ہی کامیابیاں اور عروج دیکھنے کی مستحق ہوتی ہے اور یہی غرض میری تحریک جدید سے ہے۔چنانچہ تحریک جدید کے تمام مطالبات اسی لئے ہیں کہ تم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بناؤ مثلاً جب میں نے کہا کہ جاؤ اور باہر تبلیغ کیلئے نکل جاؤ تو میں نے یہ حکم رب العالمین کی صفت کے ماتحت دیا اور اس لئے دیا تا تم بھی صفت رب العالمین کے مظہر بن جاؤ کیونکہ جو قو میں پیاسی ہیں انہیں پانی پلاؤ۔جو تاریکیوں میں بھٹکتی پھر رہی ہیں تم انہیں وہ نور پہنچاؤ جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے اور جس طرح رب العالمین تمام جہان کی ربوبیت کرتا ہے اسی طرح تم بھی نکل اور تمام دنیا کو اپنی روحانی تربیت کی آغوش میں لے لو۔پھر جب میں نے چندے کی تحریک کی تو وہ بھی رب العالمین اور مالک یوم الدین کی صفت کے ماتحت تھی کیونکہ ملک کیلئے خزانے کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی قوم اس وقت تک اپنا نظام درست نہیں کر سکتی جب تک اس کے پاس خزانہ موجود نہ ہو۔پھر جب میں نے امانت فنڈ کی تحریک کی تو وہ بھی صفت رب العالمین کے ماتحت کی کیونکہ رب العالمین کی صفت اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ سب زمانوں پر نظر رکھی جائے اور آج کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ہی خیال نہ کیا جائے بلکہ کل کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔اس نے یہ نہیں کیا کہ جن چیزوں کی انسان کو ضرورت ہے وہ اس 465