تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 453

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 ستمبر 1937ء میں لیکر انسان تکلیف برداشت کرنے کیلئے آمادہ ہو جاتا ہے کہ آئندہ ہم استقلال پر قائم ہونگے سچائی پر قائم ہوں گے ( در اصل سچائی پر قائم رہنے کا نام ہی استقلال ہے ) تو عمل کے میدان میں بھی ہم اسی طرح غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔جس طرح عقائد کے میدان میں کیا ہے صرف عہد کی ضرورت ہے ہمیں صداقت پر اس طرح قائم ہونے کا عہد کرنا چاہئے کہ دشمن بھی محسوس کریں کہ ایک احمدی کے منہ سے نکلی ہوئی بات پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ایسے نمونے ہیں کہ باہم لڑائی کے موقعہ پر دشمن کہہ دیتا ہے کہ جو بات فلاں احمدی کہے گا ہم مان لیں گے مگر ایسے نمونے کم ہیں۔بہتوں کا چال چلن لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے اور بعض اپنے جھوٹ سے لوگوں کیلئے ابتلا کا موجب بن رہے ہیں یا ابتلا کا موجب بنے کیلئے وہ تیار رہتے ہیں گو ابھی تک ان کا گند ظاہر نہ ہوا ہو۔دین کے لئے قربانیوں میں میں دیکھتا ہوں کہ بہت سستی ہے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے جماعت کے ساتھ نمازوں کی پابندی کی ہدایت کی تھی باہر کا تو مجھے علم نہیں لیکن قادیان میں اس خطبہ کا دو چار ماہ تک اچھا اثر رہامگر بعد میں پھر زائل ہو گیا حالانکہ نماز تو ایسی ضروری چیز ہے کہ اگر خلافت بھی باقی نہ رہے تب بھی اسکی پابندی لازمی ہے۔آدمی جنگل میں ہو تب بھی اسے نہیں چھوڑا جاسکتا اور سمندر میں ہو تب بھی نہیں یہ منتقل ہدایت ہے جسے کسی جگہ بھی چھوڑنے کی اجازت نہیں۔پھر میں نے سچائی کی ہدایت کی تھی۔اس کا بھی کچھ عرصہ خیال رہا دوستوں نے ایک دوسرے کی نگرانی شروع کی۔ایک دوسرے کو سنبھالنے لگے مگر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔اسی طرح تحریک جدید کے وعدے ہیں گزشتہ دنوں میں میں نے ”الفضل“ کو ایک مستقل نوٹ لکھ کر دیدیا تھا کہ شائع ہوتار ہے۔اسکے نتیجہ میں پندرہ روز تک تو آمد قریب دو گنی ہوگئی لیکن پھر ستی پیدا ہونے لگی حالانکہ تحریک جدید کوئی پہلی دفعہ نہ ہوئی تھی یا اس میں چندوں کے وعدے جبرانہ لئے گئے تھے۔دوستوں نے اپنی مرضی سے وعدے کئے تھے۔پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ ادا کرنے کے لئے میری طرف سے یاددہانیوں کے منتظر رہیں۔“ ( مطبوع الفضل یکم اکتوبر 1937 ء ) 453