تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 452

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 ستمبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں، اپنے بھائیوں اور بہنوں میں، اپنے محلہ والوں میں اور اپنے ہمسائیوں میں، اپنے شاگردوں میں اور اپنے اپنے حلقہ کی جماعتوں میں سچائی کو قائم نہیں کر لیتے اس وقت تک تم اس لڑائی کیلئے تیار نہیں ہو سکتے اور جب بھی مقابلہ ہو گا تم شکست کھاؤ گے گو یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اسے ظاہر نہ ہونے دے۔میں نے دیکھا ہے ذراسی بات ہو تو بعض نادان کہنے لگ جاتے ہیں کہ آجکل سچ سے گزاراہ نہیں ہوتا جھوٹ بول دو اور اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ تلقین کرتے ہوئے وہ نہ صرف اس شخص کو ہی بلکہ جماعت کو بھی ساتھ ہی قتل کر رہے ہیں وہ شکایت کرتے ہیں کہ احراری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ تو گالیاں دیتے ہیں مگر ی لوگ آپ کی تعلیم میں رخنہ ڈال کر آپ کے قتل کے مرتکب ہورہے ہیں جو شخص اس چیز کومٹاتا ہے جسے قائم کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے وہ آپ کو قتل نہیں کرتا تو کیا کرتا ہے حالانکہ وہ اپنے آپ کو سچائی پر قائم بتا تا ہے اور احمدیت کی فوج میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے غیر تو اس واسطے آپ پر حملہ کرتا ہے کہ وہ آپ کو جھوٹا سمجھتا ہے لیکن یہ دوستی کا دم بھرتا ہوا آپ کے کام کو تباہ کرتا ہے اس نے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا کہ آپ کی لائی ہوئی صداقتوں کو دنیا میں قائم کرنے میں مدد دے گا لیکن جب پہلا ہی موقع ملایه ای دیوار کو گرانے کے لئے کھڑا ہو گیا جو آپ نے تعمیر کی تھی۔پس اچھی طرح یا درکھو کہ احمدیت کی فتح سچائی سے ہوگی۔جب تک تم سچائی پر اس طرح قائم نہ ہو جاؤ کہ کسی بات کے متعلق محض اس وجہ سے کہ وہ ایک احمدی نے کہی ہے قسم کھا سکو کہ سچ ہے اس وقت تک تمھاری فتح نہیں ہو سکتی۔یہ کافی نہیں کہ جب میں جگاؤں تم ہوشیار ہو جاؤ اور کچھ عرصہ بعد پھر سو جاؤ۔اس طرح تو ایک افیونی بھی کر لیتا ہے۔وہ بھی کسی نہ کسی وقت ہوشیار ہو جاتا ہے۔تمہیں چاہئے کہ کسی کے جگانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔میں نے بتایا تھا کہ ہمیں عقائد کے میدان میں جس طرح فتح حاصل ہو چکی ہے اس طرح اعمال کے میدان میں نہیں ہوئی۔ہمارے اعمال کو دیکھ کر لوگ اتنے متاثر نہیں ہوتے جتنا عقائد سے متاثر ہوتے ہیں۔وفات مسیح کے دلائل سن کر لوگ کہہ دیتے ہیں اس کا ہمارے پاس جواب نہیں لیکن جب ہم ان کو سچائی کی طرف بلاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اس پر تم بھی پوری طرح قائم نہیں ہو۔قرآن کریم کے کامل ہونے کے جب دلائل دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسکا جواب کوئی نہیں۔لیکن جب امانت کا سبق دیتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اس پر ابھی تم بھی قائم نہیں ہو۔عقائد کے میدان میں ہم نے دشمن کو مار دیا ہے مگر جہاں عمل کا سوال ہو ہم میں سے بعض کی کمزوریوں سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔اگر جماعت کے دوست پختہ عہد کر لیں جس طرح زبان دانتوں 452