تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 446
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جون 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جو میرے توسط سے خرچ ہوا۔اس مد کا باقی تمام روپیہ دفتر کی وساطت سے خرچ ہوا ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں تین سال کے عرصہ میں چھ ہزار ایک سوستانوے روپیہ چندہ تحریک جدید میں میں نے اور میری بیویوں اور بچوں نے دیا ہے اور اس تین سال کے عرصہ میں آٹھ ہزار کے قریب وہ چندہ ہے جو صدر انجمن احمدیہ کو دیا گیا یا جس کا وعدہ ہے۔اب تم اس اعتراض کی معقولیت کو خود سمجھ لو کہ میں نے تحریک جدید اس لئے جاری کی کہ چار ہزار روپیہ لوں اور چودہ ہزار اپنے پاس سے دیدوں۔بھلا چار ہزار روپیہ کمانے کے لئے مجھے اتنی بڑی تحریک کی کیا ضرورت تھی۔تحریک جدید کے رجسٹرات کھلے ہیں۔وہاں سے ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ چار ہزار کے لگ بھگ رقم میرے توسط سے خرچ ہوئی ہے۔یہ نہیں کہ اس چار ہزار کا حساب نہیں۔حساب اس کا بھی ہے مگر وہ مخفی ہے۔اگر کوئی ایسا شخص ہو جسے آگے بات بیان کرنے کی عادت نہ ہوتو یہ حساب بھی اس شخص کو بتایا جا سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ چار ہزار روپیہ میں نے اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کیا تو جب یہ دیکھا جائے کہ اس عرصہ میں صرف تحریک جدید میں میں نے چونتیس سو چورانوے روپے چندہ دیا ہے۔پہلے سال سات سو میں دیا تھا۔دوسرے سال ایک ہزار چونتیس روپیہ اور اس دفعہ سترہ سو ساٹھ روپیہ دیا۔گویا چونتیس سو چورانوے خالص میرا ذاتی چندہ ہے جو میں نے تحریک جدید میں دیا۔بیویوں، بچوں کا چندہ ستائیس سو روپیہ کے قریب اس سے الگ ہے۔یہ کل رقم چندہ کی میری اور میرے بیوی بچوں کی چھ ہزار ایک سو ستاون بنتی ہے۔اسکے مقابل پر چار ہزار کے قریب کی رقم میرے توسط سے خرچ ہوئی ہے اور گو حساب اسکا موجود ہے مگر عام حساب سے مخفی نہیں لیکن کیا میرے چندہ کو دیکھ کر اور مجھ پر جو اعتراض کیا گیا ہے اسے دیکھ کر کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے کہ تحریک جدید کے نام پر میں نے اپنے لیے روپیہ بٹورنے کی کوشش کی۔اس اعتراض کو درست تسلیم کر لینے کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں نے چار ہزار کمانے کے لیے چھ ہزار ایک سو ستاون روپیہ خرچ کیا۔پھر میں ان لوگوں کو جنہوں نے یہ اعتراض کیا کہتا ہوں کہ ہمارے سارے خاندان کا صرف تحریک جدید کا چندہ اس عرصہ کا ہیں ہزار سات سو پچانوے روپیہ بنتا ہے۔اب اگر یہ درست ہے کہ ہم نے اس چندہ سے چار ہزار روپیہ چرالیا تو ایسی چوری یہ معترض خود کیوں نہیں کرتے۔اس چوری میں میں انکی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔وہ اکیس اکیس ہزار کی رقم دیئے جائیں اور چار چار ہزار کی تھیلیاں نکال کر ہم باہر رکھ دیں گے۔وہ انہیں چرا کر لیتے جائیں اور خوب مزے اڑائیں۔پھر تین سال میں چار ہزار روپیہ لینے کے معنے یہ بنتے ہیں کہ میں نے قریب سوا سوروپیہ ماہوار اس تحریک سے لیا مگر کیا تم مجھتے ہو تم نے 446