تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 445

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود و 18 جون 1937ء تحریک جدید کے چندوں کے متعلق ایک اعتراض کا جواب خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جون 1937ء ایک شخص نے حضور کے پاس شکایت کی تھی اسکے متعلق حضور فرماتے ہیں: "۔اب جو باتیں اس نے لکھی ہیں انکے متعلق تحقیق تو میں بعد میں کروں گا۔لیکن ان میں سے ایک بات ایسی ہے۔جس کے متعلق میں آج ہ کچھ کہنا چاہتا ہوں۔کیونکہ ممکن ہے، وہ بات کسی اور کے کان میں بھی ڈالی گئی ہو وہ یہ ہے کہ کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ خلیفہ اسیح نے جوتحریک جدید جاری کی ہے یہ اپنے لیے روپیہ جمع کرنے کے لیے جاری کی ہے اور انہوں نے اس ذریعہ سے جماعت سے بہت سا رو پیدا کٹھا کر لیا ہے۔مجھ پر خلافت سے پہلے بھی کئی قسم کے اعتراضات ہوتے چلے آئے ہیں اور اب بھی کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں اور بہت سے اعتراض ایسے ہوتے ہیں جو معترض پوشیدہ طور پر کرتا ہے اور سمجھتا ہے، کہ شایدان پر پردہ پڑا ر ہے مگر مالی معاملات میں شروع سے میں نے ایسی احتیاط رکھی ہوئی ہے کہ شدید سے شدید دشمن کے سامنے بھی اعتراضات کو غلط ثابت کیا جاسکتا ہے۔مثلاً بعض لوگ مجھ کو ہدیہ کے طور پر رقم بھجواتے ہیں ایسی رقوم کے متعلق بھی میں نے یہ اصل مقرر کیا ہوا ہے کہ وہ پہلے محاسب کے دفتر میں درج ہو کر پھر میرے کام آتی ہیں، تا کہ اگر کوئی اعتراض کرے تو دفتر کے رجسٹر کھول کر اس کے سامنے رکھدئے جائیں کہ دیکھو کتنا رو پید آیا اسی طرح تحریک جدید کے تمام اموال صدر انجمن احمدیہ کے رجسٹرات میں درج ہوتے اور خزانہ میں داخل ہو کر بلوں کے ذریعہ نکلتے ہیں۔غرض تحریک جدید کے تمام روپیہ کے متعلق انتظام یہی ہے کہ جو تم بھی تحریک جدید کی خرچ ہو وہ پہلے صدر انجمن احمدیہ کی طرف منتقل ہو اور اس کی وساطت سے خرچ ہو اور اس سب کا تفصیلی حساب رکھا جاتا ہے۔صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں ،مگر میں اسکے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے جو بعض دفعہ خبر رسانیوں اور ایسی ہی اور ضروریات پر جو ہر شخص کو بتائی نہیں جاسکتیں خرچ ہوتی ہے۔تین سال کے عرصہ میں صرف چار ہزار کے قریب رو پیدا ایسا ہے 445