تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 427
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 2 اپریل 1937ء معاندین سے بھی تسلیم کرالیا ہے اور دشمن بھی رفتہ رفتہ وہی عقائد اختیار کر رہے ہیں جو ہمارے ہیں لیکن عملی حصہ ہمارا کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں ایسی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اعمال کے لحاظ سے بھی دنیا کے لئے نمونہ ہوں اور ہم ساری دنیا پر ثابت کر سکیں کہ تمام مذاہب میں سے اسلام کی تعلیم ہی قابل عمل ہے، وہ ایک مضبوط چٹان ہے جسے کوئی ہلا نہیں سکتا ، وہ ایک برسنے اور دنیا پر چھا جانے والا بادل ہے جس کی زد سے دُنیا کی کوئی زمین نہیں بچ سکتی اور وہ سورج ہے جس کی شعاعیں ساری دُنیا میں پھیل جاتیں اور سوائے ان گھروں کے جن کے رہنے والوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر رکھے ہوں سب کو روشن کر دیتی ہیں حتی کہ باریک سوراخ بھی ہوتو وہاں اس کی روشنی پہنچ جاتی ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے جب ہم اپنے عملی نمونہ سے اسلامی تعلیم کی برتری ثابت کریں۔خالی تقریریں کوئی اثر نہیں کرتیں۔ایک انسان اگر تقریریں اسلامی تعلیم کی فضیلت پر کرتا ہے لیکن وہ یا اس کا ہمسایہ مغربی اثرات اور مغربی رو میں بہا چلا جاتا ہے تو اس کی تقریروں کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا اور اس کی کوششیں سب بے کار جائیں گی۔کوشش وہی کامیاب ہوتی ہے جو عملی رنگ میں کی جائے کیونکہ اس کا دوسرے کے دل پر گہرا اثر ہوتا اور دشمن بھی اسلامی تعلیم کی عظمت کا اظہار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پس دعاؤں میں اپنی توجہ اس طرف بھی مبذول کرو اور یا درکھو کہ کوئی دین کا قدم ایسا نہیں ہو سکتا جو تین سال کے بعد ہٹالیا جائے۔یہ پہلا قدم ہے جو اُٹھایا گیا اور یہ پہلا زینہ ہے جس پر پاؤں رکھا گیا اور اس کے بعد اور قدم اور اور زینے ہیں۔پس کوئی دینی تحریک ایسی نہیں ہو سکتی جو تین سال کے بعد ختم ہو جائے ہاں اس کی شکلیں بدل جاتی ہیں۔کبھی ان حصوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے جن پر پہلے کم دیا جاتا تھا اور کبھی ان حصوں پر کم زور دیا جاتا ہے جن پر پہلے زیادہ دیا جاتاتھا۔پھر کبھی اور انواع پر زور دیا جاتا ہے اور کبھی اور انواع پر زور دیا جاتا ہے اور کبھی اور انواع پر۔بہر حال دین کی ترقی کے لئے مومن کی کوشش اس کی موت تک ختم نہیں ہوتی بلکہ دین کی ترقی کے لئے کوشش کسی قوم کی موت تک بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ گو قوم مر جائے گی جس نے دین اور اصلاح عالم کے لئے جد و جہد چھوڑ دی لیکن اس کی قبر پر خدا تعالیٰ ایک اور قوم کا درخت اگا دے گا جو نئے سرے سے اور نئے جوش سے اس کام میں لگ جائے گی۔یہی اس کی قدیم سے سنت ہے اور یہی سنت دُنیا کے آخر تک رہے گی۔“ (مطبوعہ الفضل 9 اپریل 1937 ء ) 427