تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 422
خطبہ جمعہ فرمودہ 2 اپریل 1937ء بداثرات سے ہماری جماعت کو محفوظ رکھے۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول وہ لوگ جن کی آنکھیں ہیں، جو واقعات کو دیکھ سکتے ہیں اور جن کی روحانی بینائی ماری ہوئی نہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارے گزشتہ سالوں کے روزے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کرنے والے ہوئے ہیں۔اگر دنیا کی 1933ء اور 1934ء کی تاریخ انسان اپنے سامنے رکھے اور پھر 1935ء اور 1936ء کی تاریخ پر بھی نگاہ ڈالے تو وہ حیران ہو جائے گا کہ ان سالوں کی تاریخ میں کتنا عظیم الشان تغیر پیدا ہوا ہے۔ان دو سالوں میں اللہ تعالیٰ نے یکدم ایسے تغیرات پیدا کئے ہیں اور دشمنانِ احمدیت پر ایسی تباہی ڈالی اور احمدیت کی ترقی کے ایسے سامان کئے اور ہمارے مذہبی اور سیاسی دشمنوں کو مغلوب کرنے کے لئے ایسے فوق العادت نشانات دکھلائے جو بالکل غیر معمولی اور حیرت ناک نظر آتے ہیں مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ابھی ہمارے لئے فتنوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں احرار کے فتنہ کا سر کچل دیا اور سیاسی لحاظ سے وہ مردہ ہو گئے مگر مذہبی لحاظ سے وہ ابھی ڈینگیں مار رہے ہیں اور ان کے وہ زہر یلے دانت جو ان کے فاسد عقائد کے سر میں پائے جاتے ہیں گو گند تو ہو گئے ہیں مگر ٹوٹے نہیں۔اسی وجہ سے ان کے کسی ایجنٹ نے بعض اخبارات میں اب یہ اعلان کرایا ہے کہ آئندہ احرار سیاسی کاموں سے اجتناب کریں گے اور خالص مذہبی کا موں تک اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھیں گے۔غالبا اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاسیات کے متعلق اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایسی زک حاصل کر چکے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں اب اس میدان میں ان کے لئے کامیابی کا میسر آنا بالکل محال ہے۔پس انہوں نے اپنی عقلوں سے کام لیتے ہوئے سمجھا ہے کہ دو جنگیں انہیں ایک وقت میں نہیں لڑنی چاہئیں کیونکہ جب وہ سیاسی میدان میں کو دتے ہیں اور ساتھ ہی مذہبی میدان میں بھی تو سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کے لوگ ان کے مخالف ہو جاتے ہیں اس لئے اب انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن سے مذہبی مخالفت ہوا نہی کے خلاف شور بپا کیا جائے تاکہ سیاسی لوگوں کی امداد اور ان کی تائید میسر رہے اور ساتھ ہی مذہب سے دلچسپی رکھنے والوں کا ایک حصہ بھی ان کی تائید میں کھڑا رہے۔بے شک دنیوی نقطہ نگاہ سے یہ بات ٹھیک ہے مگر روحانی نقطہ نگاہ سے یہ تجویز اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی معرفت ان کی قوم کو کہلوایا تھا کہ جاؤ اور اپنے ساتھیوں کو جمع کرو۔یہاں بھی وہ اپنے ساتھیوں کو ہمارے خلاف جمع کرنے لگے ہیں کیونکہ جب وہ سیاسی اختلافات کو ترک کردیں گے اور خالص مذہبی اختلاف کا سوال رہ جائے گا تو سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کے لوگ ان کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے۔پس اگر وہ سیاسی نقطہ نگاہ سے یہ طریق اختیار 422