تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 410

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 5 فروری 1937ء نہیں ہو سکتے۔وو 66 تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول پس اپنے آپ کو نڈر بناؤ اگر تحریک جدید سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہو اور اپنے آپ کو صادق القول بناؤ اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔اگر تم نڈر ہو جاؤ تو دنیا تم سے ڈرے گی اور اگر تم صادق القول بن جاؤ تو منافق تم سے ڈریں گے۔منافق اسی لئے دلیر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میرا دوست جھوٹ بول کر مجھے بچالے گا اور اگر تم یہ دونوں صفات اپنے اندر پیدا کرلو تو نہ بیرونی دشمن اور نہ اندرونی تم پر قابو پاسکتا ہے لیکن اگر یہ باتیں تمہارے اندر پیدا نہیں ہوتیں تو تمہاری مثال اس شخص کی ہوگی جو گلاب کی خوشبو کو دیکھنا چاہتا ہے، جو ترنم کی خوش آواز کو چھونا چاہتا ہے، جو نمل کی ملائمت کو چکھنا چاہتا ہے۔تم ایسے شخص پر ہنستے ہو مگر یہ نہیں جانتے کہ تم خود ایسے ہی ہو۔تم اسی دروازے سے داخل ہو کر ترقی کر سکتے ہو جو خدا نے کھولا ہے اور جسے خدا نے بند کیا ہے تم اسے نہیں کھول سکتے۔اچھی طرح یا درکھو کہ تم خدا کے کھولے ہوئے دروازے سے داخل ہو کر اور اس کے بند کئے ہوئے دروازے سے مڑکر ہی کامیاب ہو سکتے ہو۔اگر تم اس کے بند کئے ہوئے دروازہ سے داخل ہونے کی کوشش کرو گے تو تمہارے لئے سوائے رونے اور دانت پینے کے کچھ نہ ہوگا اور اگر اس کے کھولے ہوئے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرو گے تو بے شک اس میں تلواریں لٹک رہی ہیں، بھیا تک نظارے اور خونخوار درندے ہیں مگر جو نہی تم قدم رکھو گے وہ جادو کی طرح اُڑ جائیں گے۔خدا تعالیٰ نے اپنی جنت کو دوزخ کے نیچے چھپایا ہے اور دوزخ کو دنیا کی جنت کے نیچے چھپایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی آیت (مریم : 72) وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا کے یہی معنی کئے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ جہنم میں سے نہ گزرے۔۔۔410 68 ( مطبوع الفضل 27 فروری 1937ء )