تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 395

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء نے کہے لیکن جو لاہور کی انجمن اشاعت اسلام کے لئے وصیت کرے وہ بڑی نیکی کا کام ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ ایک معقول انسان، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہنے والا انسان، اسلام پر کتابیں لکھنے والا انسان، ایک انجمن کا پریذیڈنٹ کہلانے والا انسان جس کے خطوں میں اب چوری چھپے خلیفہ اسیح کے الفاظ بھی لکھے جارہے ہیں اُس نے یہ کیونکر کہہ دیا کہ چونکہ قادیان میں اب بعض ایسے کارخانے کھل گئے ہیں جن میں تیموں اور غریبوں کو کام کرنا سکھلایا جاتا ہے اس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قادیان کے لوگ بے دین ہو گئے۔گویا جو بیواؤں کو بھوکا رکھیں، جو یتیموں کو بھوکا ماریں، جو غریبوں کو بھوکا ماریں وہ تو دین دار مگر جو اُن کی آسائش اور سہولت کے لئے کوئی کام نکالیں وہ بے ایمان اور اشاعت اسلام کے کام سے منحرف ؟ مگر میں مولوی محمد علی صاحب سے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ وہ خود اسی قسم کے کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔یہ ایام خواہ ان کی زندگی میں آئیں یا اُن کی اولادوں کی زندگی میں، بہر حال زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ خود اسی قسم کے کام کریں گے جس قسم کے کاموں پر وہ آج ہم پر اعتراض کر رہے ہیں۔وہ بے شک میرا یہ خطبہ اپنے اخبار میں چھاپ دیں تا آئندہ نسلوں کے لئے سندر ہے کہ میں نے یہ دعوی کیا ہے کہ ایک دن ان کی انجمن یہی کام کرنے پر مجبور ہوگی۔اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو ان کی نام ہی ان کی نسلوں پر ثابت ہوگی اور اگر درست نہ نکلی تو میرا جھوٹ ثابت ہوگا۔ایک دوسری صورت بھی میں اُن کے سامنے پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ یہ اعتراض دیانت داری سے کر رہے ہیں تو وہ اپنی طرف سے چوکھٹوں میں یہ الفاظ شائع کر دیں کہ اگر کبھی ہماری جماعت نے صنعتی مدرسے جاری کئے یا بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کی اور انہیں کوئی ہنر اور پیشہ سکھانے کی کوشش کی تو یہ سخت بے دینی ہوگی پھر وہ خود بخود دیکھ لیں گے کہ اگلی نسلیں اُن پر لعنتیں کرتی ہیں یا نہیں کرتیں اور اگر وہ کہیں کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر اور بھی بیسیوں کام ہیں وہ تم کیوں نہیں کرتے یا اس سے پہلے کیوں ایسے کام جاری نہیں کئے تھے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر کام کا وقت ہوتا ہے۔جب تک ہمارے آدمی تھوڑے تھے اور اُن کو کام پر لگانے کے لئے ایسے اخراجات اسراف میں داخل تھے ہم نے یہ کام شروع نہیں کئے اور جب ہماری تعداد زیادہ ہوگئی اور بے کاری بڑھ گئی اور سکھانے کا خرچ اسراف نہ رہا ہم نے یہ کام جاری کر دیئے۔اب اگر ہمارے پاس مزید طاقت ہو تو ہم یقیناً اور پیشے بھی سکھانے کے لئے جماعت میں کارخانے جاری کر دیں گے بلکہ اگر ہمارے اندر طاقت ہو تو میں تو اپنی جماعت کے افراد سے 395