تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 23
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء ہوتا ہے۔دوسرے تماشے وغیرہ بھی شامل کر لئے جائیں تو ان اخراجات کا اندازہ پچاس لاکھ بھی کم ہے۔یہ رقم صرف لاہور کی ہے اور پنجاب بھر میں ڈیڑھ دو کروڑ روپیہ سے کم خرچ نہ بنے گا۔اگر دیہات کی کھیلیں بھی شامل کر لی جائیں تو چونکہ دیہاتی آبادی زیادہ ہوتی ہے، پنجاب میں یہ خرچ تین کروڑ کے قریب پہنچ جاتا ہے اور یورپ میں تو یہ خرچ بہت ہی زیادہ ہے۔انگلستان کی آبادی چار کروڑ ہے مگر اندازہ کیا گیا ہے کہ ایک سال میں وہاں سنیما پر چار کروڑ پاؤنڈ خرچ ہوا۔اگر اس کے ساتھ دوسرے تماشوں اور گھوڑ دوڑوں وغیرہ کو شامل کر لیا جائے تو خرچ اس سے دو گنے سے کم نہ ہوگا۔گویا اندازہ ایک ارب بیس کروڑ روپیہ یا تمیں روپیہ فی کس سالانہ یا اڑھائی روپیہ فی کس ماہوار اور ہمارے ملک میں اوسط تین پیسے فی کس روزانہ آمد ہے یعنی ڈیڑھ روپیہ فی کس ماہوار جس میں سے تمام اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں مگر انگلستان میں اڑھائی روپیہ فی کس ہر مہینہ میں تماشوں پر خرچ ہوتا ہے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتنا بڑا خرچ ہے اور یہ آمدنی پر بہت بڑا بوجھ ہے۔چھٹا خرچ شادی بیاہ کا ہے۔اس میں بھی بڑا خرچ ہوتا ہے۔یہاں قادیان میں میں نے دیکھا ہے کہ ولیمہ کا مرض بہت ترقی کرتا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ولیمہ کی دعوتیں ہوتی تھیں مگر بہت محدود۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑے سے بڑا ولیمہ بھی اتنا نہیں ہوا ہوگا جتنے ہمارے ہاں چھوٹے ہوتے ہیں اور وہ اس میں شائد میری نقل کرتے ہیں۔حالانکہ میرے تعلقات ساری جماعت کے ساتھ باپ بیٹے کے سے ہیں اور ایسے موقع پر ہر خاندان کے ساتھ مجھے محبت کا تعلق ظاہر کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ اس قدر کثرت کے ساتھ لوگوں کو بلا لینے کے باوجود بھی مجھ پر شکوہ ہوتا ہے کہ ہمیں نہیں بلایا گیا اور اب تو مجھے بھی یہ تعداد تھوڑی کرنی پڑے گی۔پس اگر کنچنیوں اور ڈوموں کا مرض گیا ہے تو اس کی جگہ ولیموں نے لے لی ہے۔حالانکہ ولیموں پر دس پندرہ دوستوں کو بلا لینا کافی ہوتا ہے یا جیسا کہ سنت ہے ایک بکرا ذبح کیا، شور با پکایا اور خاندان کے لوگوں میں بانٹ دیا۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ اب تک یہ مرض بھی چلا جارہا ہے کہ لڑکی والے یہ پوچھتے ہیں زیور کیا دو گے؟ اور ایسا کہتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔کوئی شخص اپنی طرف سے جس قدر چاہے دے لیکن لڑکی والوں کی طرف سے ایسی بات کا کہا جانا لڑکی کو فروخت کرنے کے مترادف ہے۔پھر مہر بھی حد سے زیادہ مقرر کئے جاتے ہیں۔ہمارے گھروں میں عام طور پر ایک ہزار روپیہ مہر ہوتا ہے بعض زیادہ بھی ہیں۔زیادہ ان حالتوں میں ہیں جن میں عورتوں کو شرعی حصہ نہیں مل سکتا وہاں مہر اتنا ہے کہ کمی پوری ہو جائے مگر یہاں میں نے دیکھا ہے کہ 23