تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 22
خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اور اس کی جائیداد پر اثر پڑ کر اور کم ہو جائے گی اور اس طرح یہ قربانی سلسلہ کے لئے مفید ہونے کی بجائے مضر ہوگی۔مزید قربانیوں کے لئے ماحول پیدا کرنے کے واسطے ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا روپیہ خرچ کہاں ہوتا ہے؟ جو پیسہ ہم خرچ کرتے ہیں اس میں سے ایک حصہ جائیداد کی حفاظت کے لئے بھی صرف ہوتا ہے، تجارت اور زمینداری کی مضبوطی کے لئے بھی ہوتا ہے، صدقات اور چندوں پر بھی خرچ ہوتا ہے اور یہ سب خرچ مال کو کم کرنے کا نہیں بلکہ بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔پس ان اخراجات کو چھوڑ کر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا باقی آمد کن کن مدات میں خرچ کرتی ہے؟ تو اس کی موٹی موٹی آٹھ مدات معلوم ہوتی ہیں۔اول غذا ہر انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے ہر شخص کھانا کھانے پر مجبور ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا ہی ایسا کیا ہے اور کھانے پینے کا حکم بھی دیا ہے جو شخص نہ کھائے گا وہ سلسلہ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا بلکہ مر جائے گا اس لئے یہ خرچ بہر حال قائم رہنا ہے۔دوسرے لباس کا خرچ ہے:۔اس کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ لباس پہنو اور ننگے نہ رہو۔تیسرے عورتوں کے زیورات پر خرچ ہوتا ہے یہ ضروری نہیں مگر ساری دنیا میں ہورہا ہے۔چوتھے بیماریوں کے علاج وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے اور یہ بھی قریباً ہر شخص کو کرنا پڑتا ہے۔شائد ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو کبھی بیمار نہ ہوا ہو۔وگرنہ ہر شخص بیمار بھی ہوتا ہے اور ڈاکٹروں کی فیسوں اور دوائیوں وغیرہ پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔پانچویں آج کل بڑا خرج تماشوں وغیرہ پر ہوتا ہے اور یہ خرچ شہروں وغیرہ میں تو خصوصیت سے زیادہ ہوتا ہے۔طالب علم ہفتہ میں ایک دو بار ضرور سنیما دیکھتے ہیں اور ایک کافی تعداد ان کی دو روپیہ ماہوار کے قریب اس پر ضرور خرچ کر دیتی ہے حالانکہ چندہ آٹھ آنے ماہوار بھی نہیں دے سکتے۔تھیٹر ، سرکس اور دوسرے تماشے وغیرہ اتنے ہیں کہ ان کا گنا بھی مشکل ہے۔پھر بعض دفعہ کرکٹ اور فٹ بال وغیرہ کے میچ ہوتے ہیں ان پر بھی ٹکٹ ہوتا ہے۔پھر گھوڑ دوڑیں ہیں ہمارے ملک میں گو اس کا رواج کم ہے مگر پھر بھی یہ ایک خرچ ہے۔غرض تماشوں کا خرچ بھی آج کل کافی ہو جاتا ہے۔لاہور میں سترہ اٹھارہ سنیما ہیں، روزانہ دو کھیل ہوتے ہیں اور اس طرح 35، 36 سمجھو، اگر فی شود و سو آدمی بھی سمجھا جائے ، گو اس سے زیادہ ہوتے ہیں، تب بھی سات ہزار نے روزانہ تماشا دیکھا اور ٹکٹ کی قیمت اگر ایک روپیہ بھی اوسط رکھ لی جائے تو گویا سات ہزار روپیہ روزانہ سنیما پر خرچ ہوتا ہے۔یہ اندازہ میرے نزدیک بہت کم کر کے لگایا گیا ہے مگر اس کے مطابق بھی سوا دو لاکھ روپیہ ماہوار اور چھپیں لاکھ روپیہ سالانہ سنیما پر خرچ 22