تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 327
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء قربانی کو خدا کبھی ضائع ہونے نہیں دیتا ، اس کے دل سے بہا ہوا ایک قطرہ خون سارے زمین آسمان سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔چاہے تم اس دنیا میں کامیابی دیکھو چاہے اگلے جہان میں آسمان پر سے جھانک کر دیکھو۔بہر حال تمہاری قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔دنیا کی اصلاح ہو کر رہے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشن دنیا میں قائم ہو کر رہے گا اور تم خدا کی گود میں ہنستے ہوئے کہو گے کہ ہمارا تھوڑا سا خون دنیا میں کتنے عظیم الشان تغیرات پیدا کرنے کا موجب ہوا۔آج اسلام تباہی کی حالت میں گرا ہوا ہے مگر صدیوں تک اسلام نے دنیا میں نہایت نیک اور مہتم بالشان تغیر پیدا کئے ہیں۔وہ دو دو چار چار روپے کی حیثیت کے صحابہ" جن کے جسم پر کپڑے بھی کافی نہیں ہوتے تھے اور جن کے پیٹ میں روٹی نہیں ہوتی تھی وہ کس اعلیٰ مقام کو پہنچے؟ جس وقت اگلے جہان میں خدا ان کی روحانی بینائی کو تیز کرتا ہوگا اور گزشتہ صدیوں میں جب وہ آسمان پر سے جھانک کر دیکھتے ہوں گے کہ کس طرح دنیا میں یورپ سے لے کر چین کے کناروں تک مسلمان خدا کا نام پھیلانے میں مصروف ہیں تو ان کے دل کس قدر خوشیوں سے بھر جاتے ہوں گے اور وہ کس کس رنگ میں مزے نہ لیتے ہوں گے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی قربانیاں دنیا میں کتنا عظیم الشان تغیر پیدا کر گئیں اور ہمارا بویا ہوا چھوٹا سا پیچ کیسا عظیم الشان درخت بن گیا۔یہی حال آئندہ ہونے والا ہے۔ہمارے زمانہ میں یہ باتیں آئیں یا نہ آئیں مگر یہ آکر رہیں گی اور اگر اس دنیا میں ہم نے ان اُمور کو پورا ہوتے نہ دیکھا تو ہم آسمان پر سے دنیا کو جھانکیں گے اور دنیا کے تغیرات کو دیکھ کر کہیں گے کہ خدا نے سب کچھ ہمارے ہاتھوں سے کرایا۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے تجھ سے جو وعدے کئے ہیں ان وعدوں میں سے بعض تیری زندگی میں پورے کر دیں گے اور بعض تیری وفات کے بعد پورے کریں گے۔یہی حال مومن کا ہوتا ہے وہ کچھ اُمور کو پورا ہوتے اپنی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے اور کچھ اُمور کے پورا ہونے کو آسمان پر سے جھانک کر دیکھتا ہے اور میں سمجھتا ہوں دنیا کے دیکھنے سے آسمان پر سے دیکھنا کچھ کم حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دنیا میں انسان جب ان اُمور کو دیکھتا ہے تو اس کے ساتھ بہت سے خطرات بھی لگے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ آئندہ کے حال سے بھی ناواقف ہوتا ہے لیکن آسمان پر بیٹھی ہوئی روح مستقبل سے بھی واقف کی جاتی ہے اور وہ جانتی ہے اس وسعت کو جو اس کا لگایا ہوا درخت دنیا میں حاصل کر رہا ہو۔پس اپنی ذات کا معاملہ خدا سے درست کر لو دنیا کا معاملہ خدا تعالیٰ خود درست کر دے گا کیوں کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے مومن کی قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی ، ضائع نہیں ہو سکتی اور ضائع نہیں کی جاتی۔“ مطبوع الفضل 19 ستمبر 1936ء) 327