تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 326

خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سارے عہدے ان کے قبضے میں ہیں اور خزانہ بھی انہی کے ماتحت ہے اور اس پر بھی انہی کا قبضہ ہے۔وہ رات جنہوں نے قادیان میں گزاری ہے وہ جانتے ہیں کہ جماعت کیسی خطرناک حالت میں سے گزری ہے، اس وقت جماعت کی حالت بالکل ایسی ہی تھی جیسے پانی پر ایک بلبلہ ہو اور اچانک ایک تیز آندھی اُسے مٹانے کے لئے آجائے ، ایک تیز آندھی کے مقابلہ میں بلبلے کی کیا حیثیت ہوا کرتی ہے؟ ہر شخص اس کا اندازہ آسانی سے لگا سکتا ہے۔بلبلہ تیز آندھی کے مقابلہ میں ایک بالکل بے حقیقت سے ہوتا ہے مگر کوئی کیا جانتا تھا کہ یہی بلبلہ ایک دن گنبد خضرا بننے والا ہے اور آسمان کی طرح دنیا پر چھا جانے والا ہے۔بلبلہ بلبلہ ہی تھا اور طوفان طوفان ہی تھا مگر اس بلبلہ کے اندر جو ہوا بھری ہوئی تھی وہ معمولی ہوانہ تھی بلکہ خدا کی روح تھی وہ بڑھی ، وہ ترقی پائی، وہ مضبوط ہوئی یہاں تک کہ ایسی چھت بن گئی جس کے نیچے ساری قوموں نے آرام پایا۔پس کون ہے جو مومن کو ڈرا سکے؟ کون ہے جو اُ سے خائف کر سکے؟ کہ مومن کی طاقت اس کے نفس سے نہیں آتی بلکہ اس کے خدا کی طرف سے آتی ہے۔ایک تلوار جو خالی پڑی ہوئی ہو وہ ایک بچہ کو بھی زخمی نہیں کر سکتی لیکن ایک معمولی سی چھڑی مضبوط انسان کے ہاتھ میں جا کر دوسرے انسان کا سر بھی تو ڑسکتی ہے۔پس دنیا کے سامانوں سے مت ڈرو اور اس کی تکلیفوں کا مست خیال کرو تم میں سے ہر فرد واحد کا معامله براه راست خدا تعالیٰ سے ہے۔پس اپنے دل میں عہد کرو کہ ہم اس آخری زمانہ کے مصلح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیا کی اصلاح کریں گے اور بیوی بچوں ، ہمسایوں، دوستوں ، رشتہ داروں اور ملنے والوں کی کوئی پرواہ نہ کریں گے اور جس جس قربانی کے لئے بلایا جائے گا اس کے لئے آمادہ ہوں گے۔جب تم ایسا کرو گے تو تمہارا معاملہ خدا سے صاف ہو گیا: لَا يَضُرُّكُم مِّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ( المائدة : 106) جب تم ہدایت پاگئے تو دوسرے کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔خدا تعالیٰ کے سامنے تم دنیا کے ذمہ دار نہیں بلکہ صرف اپنی جان کے ذمہ دار ہو۔جب تم اپنی جان خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر دو گے اور کہہ دو گے کہ اے خدا! ہم نے تیرے لئے اور تیرے دین کی اشاعت کے لئے اپنی جان بھی قربان کر دی آگے لوگوں کی اصلاح ہوئی یا نہیں یہ تیرا کام تھا ہمارا نہیں تو تم اپنے فرض سے سبکدوش سمجھے جاؤ گے اور تم پر کوئی الزام نہیں ہوگا مگر یاد رکھو! اگر انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جائے تو ناممکن ہے کہ دنیا کی اصلاح نہ ہو۔زمین مل سکتی ہے، آسمان مل سکتے ہیں، پہاڑ غائب ہو سکتے ہیں، دریا خشک ہو سکتے ہیں، سمندر بھاپ بن کر اڑ سکتے ہیں، تمام عالم تہ و بالا کیا جا سکتا ہے مگر مومن کی 326