تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 311
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء آرام و آسائش کی قربانی بھی کرنی پڑے گی اور اسی طرح کی اور بہت سی قربانیاں ہیں جو انہیں کرنی پڑیں گی تب خدا تعالیٰ کا نور دنیا میں پھیلے گا۔پس جو کمزور ہیں وہ میری تحریک کی اہمیت کو سمجھ لیں اور اس کے مطابق عمل کریں ورنہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ یا تو ایک دن مرتد ہو کر انہیں جماعت سے خارج کرنا پڑے گا یا خود انہیں جماعت سے الگ کر دیا جائے گا۔قادیان کے کارکنوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہو جانا چاہئے کہ اگر سرمایہ کافی نہ ہوا تو گو پہلے ہی انہیں باہر کی نسبت قلیل تنخواہیں دی جاتیں ہیں لیکن پھر بھی ان کی تنخواہوں میں کمی کی جائے گی اور جو کارکن اس کے لئے تیار نہ ہوں انہیں پہلے سے اپنی نوکریوں کا باہر انتظام کر لینا چاہئے۔پھر کارکنوں کے علاوہ جماعت کے جو عام افراد ہیں خواہ وہ قادیان میں رہتے ہوں یا با ہر ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس امر کے لئے تیار رہیں کہ اب انہیں ہر قدم پہلے سے آگے بڑھانا پڑے گا اور یہ کام ختم نہیں ہو گا جب تک اسلام کی حکومت دنیا میں قائم نہ ہو جائے اس سے پہلے ہمارے لئے کوئی ہالٹ اور کوئی ٹھہر نا اور کوئی آرام کرنا نہیں ہاں جب دنیا میں صحیح رنگ میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی تو ایک مرحلہ ہماراختم ہو جائے گا مگر جیسا کہ میں نے بار ہا بتایا ہے مومن کا کام پھر بھی ختم نہیں ہو سکتا جو سچا مومن ہو جس دن اس کا کام ختم ہو جاتا ہے اسی دن اس کی موت آجاتی ہے۔دیکھو ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (النصر : 2 5t) کہ تیرا کام چونکہ دنیا میں اسلام پھیلانا ہے اس لئے جب اسلام میں لوگ جوق در جوق داخل ہونے لگیں اور فوج در فوج لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے آئیں تو سمجھ لینا کہ تیرا وقت ختم ہو گیا اس وقت ذکر الہی میں مشغول ہو جانا اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہ آیت سنائی تو باقی صحابہ تو بڑے خوش ہوئے کہ اب فتوحات کا زمانہ آ گیا لیکن حضرت ابو بکر رو پڑے وہ نہایت کامل الایمان تھے وہ یہ آیت سنتے ہی سمجھ گئے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ختم ہو گیا تو پھر آپ ﷺ نے دنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے؟ خدا تعالیٰ کا رسول نکما نہیں بیٹھتا۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ وفات نزدیک ہے اس پر حضرت ابوبکر کو اتنا رونا آیا ، اتنا رونا آیا کہ ان کی گھگی بندگئی بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض صحابہ آپ کے رونے کو سن کر کہہ اُٹھے کہ اس 311