تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 310

خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اور تم کہتے ہو کہ بن جائے گا ؟ وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ انہوں نے حضور کے دل کا اندازہ نہیں لگایا تھا انہوں نے سمجھا کہ آپ اس قدر روپیہ کہاں خرچ کریں گے؟ مگر میں نے آپ کے دل کا اندازہ لگا لیا ہے اور میں سمجھ گیا ہوں کہ جب آپ دولاکھ روپیہ کے ضائع ہونے پر چیں بہ جبیں نہیں ہوئے تو اس قسم کے مقبرہ پر بھی بے دریغ روپیہ خرچ کر دیں گے۔اگر آپ ان دولا کھ کے ضائع ہونے پر چیں بہ جبیں ہو جاتے تو میں بھی کہہ دیتا کہ مقبرہ نہیں بن سکتا۔اگر تاج محل بنانے کے لئے اتنے وسیع حوصلہ کی ضرورت ہو سکتی تھی تو خدا تعالیٰ کے لئے ایک نئی زمین بسانے کے لئے کتنے وسیع حوصلہ اور کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے؟ ہمیں بھی اسی طرح اپنی جائیں اور اپنے اموال قربان کرنے پڑیں گے جس طرح اس انجینئر نے شاہ جہاں کا روپیہ قربان کیا۔میں جانتا ہوں کہ ہر شخص کی عقل اتنی وسیع نہیں ہوتی کہ وہ قربانیوں کی حقیقت کو سمجھ سکے بعض تھڑ دلے ہوتے ہیں وہ نہ دین کے پھیلانے کی عظمت جانتے ہیں نہ قربانی کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں نہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کی ان کے نزدیک کوئی قیمت ہوتی ہے ان کی ایک ایک پیسہ پر جان نکلتی ہے اور دین کے لئے خرچ کرنا انہیں موت دکھائی دیتا ہے مگر وہ جو جانتے ہیں کہ کام کتنا بڑا ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ قربانیاں اپنے اندر کیا عظمت وشان رکھتی ہیں، جو خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کے مقابلہ میں دنیوی مال و متاع کو ایک حقیر اور ذلیل چیز قرار دے کر اسے قربان کرنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے وہ قربانیوں پر بجائے عمگین ہونے کے خوش ہوتے اور قربانیوں کوستا سودا سمجھتے ہیں ایسے آدمی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں کم نہیں ہزار ہا ہیں جو سی قسم کا اخلاص اور اس قسم کی محبت رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں عبد الحکیم نے جب اعتراض کیا کہ جماعت احمدیہ میں سوائے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور ایک دو آدمیوں کے کوئی صحابہ کا نمونہ نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے اس خیال کی نہایت سختی سے تردید کی اور فرمایا میری جماعت میں ہزاروں ہیں جو صحابہ کرام کا نمونہ ہیں۔پس میرے لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور وہ خود ایسے آدمی کھڑے کرے گا جو سلسلہ کی مالی اور جانی خدمات سرانجام دیں گے لیکن میں نہیں چاہتا کہ ایک بھی ہم میں سے تباہ ہو اس لئے میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرا راستہ لمبا اور تکلیفوں سے پُر ہے جو لوگ کمزور ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنی کمزوری کو دور کر کے اپنے آپ کو مضبوط بنائیں۔اس راستہ میں مال کی قربانی بھی کرنی پڑے گی، جان کی قربانی بھی کرنی پڑے گی، عزت کی قربانی بھی کرنی پڑے گی ، وطن کی قربانی بھی کرنی پڑے گی ، 310