تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 294
تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : 31) تمہارے دل میں یہ درد پیدا نہیں ہوتا کہ کاش! جس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خدا کے سامنے یہ کہیں کہ: يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: 31) اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔اس وقت وہ ایک استثنا بھی کریں اور وہ استثنا تمہارا ہو جس وقت وہ یہ کہیں کہ اے میرے رب ! میری قوم نے تیرے اس قرآن کو چھوڑ دیا تو اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہیں کہ میں اس قوم اور اس جماعت کو مستی کرتا ہوں۔کیا یہ خواہش تمہارے دلوں میں کبھی پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہوتی ہے تو تم قربانیوں کے لئے کیوں آمادہ نہیں ہوتے ؟ کب تک تم کو سنانے والے سنائیں گے؟ کب تک تم کو جگانے والے جگائیں گے؟ ہر دن جو گزر رہا ہے وہ تم کو اس چشمہ سے دور کر رہا ہے جس چشمہ سے تمہاری نجات وابستہ ہے، جس چشمہ سے تمہاری حیات وابستہ ہے۔پس ہوشیار ہو جاؤ اور بیدار ہو جاؤ اور اس دن کا انتظار نہ کرو کہ جب تمہیں جگانے والے نہیں رہیں گے اور نہ ہوشیار کرنے والے رہیں گے۔آج تمہارا بوجھ بٹانے والے دنیا میں موجود ہیں مگر وہ ہمیشہ نہیں رہ سکتے کیونکہ خدا کی یہ سنت چلی آئی ہے کہ بوجھ بٹانے والے وہ ہمیشہ ساتھ نہیں رکھتا۔پس اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور چھوٹے چھوٹے امتحانوں میں کامیاب ہونے کی کوشش کرو تا بڑے امتحانوں میں تم کامیاب ہو سکو۔تم نیت کر لو اور ارادہ کر لو اس بات کا کہ تم خدا کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی انکار نہیں کرو گے تم نیت کر لو اور ارادہ کر لو اس بات کا کہ اگر تمہیں خدا کے لئے اپنے کسی عزیز اور رشتہ دار کو چھوڑنا پڑے تو تم اسے بخوشی چھوڑنے کے لئے تیار ہو گے تم نیت کر لو اور ارادہ کر لو اس بات کا کہ تم خدا کے لئے ہر قسم کی موت کو قبول کرنے کے لئے تیار رہو گے۔تم خدا کے لئے مر جاؤ اور اس کے لئے موت قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ پھر تمہیں اس کی طرف سے ابدی زندگی ملے گی تم اس کے لئے گڑھے میں گرنے کے لئے تیار ہو جاؤ کہ جو خدا کے لئے گڑھے میں گرنے کے لئے تیار ہو جائے گا خدا اسے اپنی گود میں اُٹھا لے گا۔تم ان لوگوں میں سے مت بنو جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق قرآن اُٹھا کر اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا بلکہ تم ان لوگوں میں سے بنو جنہوں نے جب دیکھا کہ قرآن کو پیٹھوں کے پیچھے پھینکا جا رہا ہے تو انہوں نے فوراً اپنی جھولیوں میں اسے اُٹھا لیا۔“ (مطبوعہ الفضل 2 جولائی 1936ء) 294