تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 293
تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول تقریر فرموده 28 جون 1936ء دھکے لگتے ہیں میں نے تو ابھی مصافحہ نہیں کیا۔وہ کہنے لگا دھکے کیا ہوتے ہیں؟ اگر تمہاری ہڈیوں سے بوٹیاں بھی الگ ہو جائیں تو پروا نہیں، ہجوم میں گھس جاؤ اور مصافحہ کر آؤ یہ دن تمہیں پھر کہاں نصیب ہو سکتے ہیں؟ وہ ایمان تھا اور وہ اخلاص تھا جو حقیقی محبت پر دلالت کرتا تھا یعنی خدا کی طرف سے آنے والے کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھونے کے لئے اگر گوشت ہڈی سے جدا ہو جاتا ہے تو جدا ہو جائے کیونکہ یہ دن روز روز میسر نہیں آسکتے۔کاش! ہم ان لوگوں کے دلوں کی کیفیت کا احساس کر سکتے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے پہلے تیرہ سوسال کے عرصہ میں ہوئے۔کاش! ہم اس درد کو جانتے۔کاش! ہم اس گریہ وزاری پر اطلاع رکھتے جو درد اور جو گریہ وزاری ان لوگوں کو اس حسرت میں پیدا ہوتی کہ کاش ! وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں آپ ﷺ کے پاؤں کو نہیں بلکہ آپ ﷺ کے پاؤں کی خاک کو ہی چھونے کا فخر حاصل کر سکتے۔اگر یہ چیز ہمارے سامنے آجائے تو شاید ہمیں شرمندگی پیدا ہو، شاید ہمارے دلوں میں بھی احساس ہو کہ ہم نے کتنی بڑی چیز کی ناقدری کی۔خدا تعالیٰ نے ایک آواز ہمارے لئے بلند کی، اس نے ایک ہاتھ ہماری طرف لمبا کیا اور ہمیں موقع دیا کہ ہم پھرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا مقام حاصل کریں، پھر ہم اپنے خدا کول سکیں لیکن افسوس! ہم نے اس کی قدر نہ کی اس کی قیمت کو نہ پہچانا اور اسی طرح گزر گئے جس طرح بازار میں کوئی خربوزوں کے ڈھیر اور آموں کے ٹوکروں پر سے گزر جاتا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ پہلے اس چیز کو سمجھے کہ وہ ہے کیا ؟ جب تک اس مقام کو وہ نہیں سمجھتی اس وقت تک اسے اپنے کاموں میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔تحریک جدید تو ایک قطرہ ہے اس سمندر کا جو قربانیوں کا تمہارے سامنے آنے والا ہے جو شخص قطرہ سے ڈرتا ہے وہ سمندر میں کب کو دے گا؟ پانی کے قطرے سے تو وہی ڈرتا ہے جسے ہلکے کہتے یعنی شیطان نے کاٹ لیا ہو ورنہ بھی تندرست بھی قطرے سے ڈرا کرتا ہے؟ تندرست اگر ڈر سکتا ہے تو سمندر سے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ نامعلوم میں اس میں تیر سکوں یا نہ تیر سکوں؟ اور نامعلوم اسے عبور کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ مگر کوئی سمجھدار باشعور انسان پانی کے قطرہ سے نہیں ڈرتا۔پس جو شخص قطرے سے ڈرے اس کے متعلق سمجھ لو کہ اسے ہلکے گنتے یعنی شیطان نے کا نا ہے کیونکہ تحریک جدید ایک قطرہ ہے قربانیوں کے سمندر کے مقابلہ میں، اب جو شخص اس قطرے سے خائف ہے یقینا ا۔ہلکے کتے نے کاٹا ہے یعنی یقینا اس پر شیطان نے غلبہ کیا ہوا ہے اور اس کا ایمان ضائع ہو چکا ہے۔پس اس قطرے کا نگل لینا کون سا مشکل کام ہے؟ ابھی تو اس سمندر میں تمہیں تیرنا ہے جس سمندر میں تیرنے کے بعد دنیا کی اصلاح کا موقع تمہیں میسر آئے گا۔کیا قرآن میں یہ آیت پڑھتے وقت کہ: 293