تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 18

خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول بغیر سمندر میں کود پڑیں گے اور اگر جنگ ہوئی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لڑیں گے اور پیچھے لڑیں گے، دائیں لڑیں گے اور بائیں لڑیں گے اور دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں کو کچل کر نہ جائے۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا خدا کا یہی حکم تھا۔اس صحابی کا جواب اتنا پیارا ہے کہ ایک اور صحابی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شامل وئے ، حسرت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ کاش! مجھے ان جنگوں میں شامل ہونے کی سعادت حاصل نہ ہوئی ہوتی اور یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے ہوتے۔ہو یہ الفاظ ، ایسے موقع پر اور اس خاص حالت میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے مشورہ لے رہے تھے اور اس خیال کے ماتحت لے رہے تھے کہ وہ مدینہ سے باہر جنگ کرنے کے پابند نہیں ، اس جوش اور محبت میں کہے گئے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شامل ہونے کی سعادت سے بھی زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ الفاظ جنگ سے افضل ہیں یا زیادہ درجہ رکھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ان الفاظ میں جس محبت کا اظہار ہے وہ ایک بے پایاں سمندر کی طرح حدوبست سے آزاد معلوم ہوتی ہے۔غرض ایسے مواقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخفا سے کام لیتے تھے مگر ایسے حالات میں کہ مطلب کے حصول کے لئے اظہار مضر ہوتا۔پس ایسا اخفا نا جائز نہیں۔ہاں جو اخفا اس لئے کیا جاتا ہے کہ فعل قانو نا یا اخلاق باند با جرم ہے اور اس لئے کیا جاتا ہے کہ تا اس فعل کا مرتکب قانونی یاند ہی یا اخلاقی جرم کا مرتکب نہ قرار دیا جائے وہ نا جائز ہے لیکن جو چیز سراسر جائز ہے اس میں مطلب براری اور کامیابی کے لئے ایک حد تک اخفا جائز ہے۔پس بعض باتوں کے متعلق دوستوں کو صرف مجملاًا ہدایت سن کر اس پر قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ میں نے سکیم کو لازمی قرار نہیں دیا کیونکہ اس کے بعض حصے ایسے ہیں کہ جن کو تفصیلاً بیان نہیں کیا جائے گا اور میں مخلصین سے مطالبہ کروں گا کہ اس اخفا کے باوجود جو اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر سکتا ہے کرے اور جو نہیں کرنا چاہتا نہ کرے اور اس طرح میں کسی کے لئے ادنی اعتراض کی بھی گنجائش نہیں رہنے دینا چاہتا چاہے ایک شخص بھی اس میں شامل نہ ہو، میں اللہ تعالیٰ کے سامنے صرف اپنی ذات کا ذمہ دار ہوں۔میرا کام تبلیغ کرنا ، تربیت کرنا ، فرائض کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے احکام کو رکھ دینا ہے۔مجھ پر ذمہ داری صرف میری جان کی ہے۔میں اس کا ذمہ دار ضرور ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی آواز کو پہنچا دوں اس صورت میں اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے تو 18