تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 287

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول رائیگاں ہیں وہ: ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (الكهف: 105) تقریر فرموده 28 جون 1936ء کا مصداق ہے اور قیامت کے دن وہ اس بنجر زمین میں دانہ بونے والا قرار دیا جائے گا جس میں سے کچھ بھی نہیں اُگ سکتا۔جس کام کے لئے ہماری جماعت اس وقت کھڑی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی کام نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نوح کے زمانہ سے لے کر میرے زمانہ تک ہر نبی نے آخری زمانہ کے فتنہ سے لوگوں کو ڈرایا اور اس کی ہیبت پر زور دیا ہے مگر کیا ہماری جماعت میں یہی احساس ہے کہ وہ آخری زمانہ کے اس بہت بڑے فتنہ کا سر کچلنے اور اسے دنیا سے ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے؟ ہر شخص اپنے نفس سے سوال کرے اور سوچے کہ اگر اس کے گھر کو آگ لگ جائے تو کیا اس آگ کو بجھانے کے لئے اس کی کوشش ویسی ہی ہوگی جیسی کوشش وہ آج اس وقت کر رہا ہے جب خدا کے گھر کو آگ لگی ہوئی ہے؟ یا کیا اس کا بچہ اگر موت کے پنجہ میں گرفتار ہوتو وہ اس کو بچانے کے لئے اتنی ہی جدو جہد کیا کرتا ہے جتنی جد جہد آج وہ اسلام کو موت کے منہ سے بچانے کے لئے کر رہا ہے؟ کیا اس کے دل میں اس وقت جو درد اور تکلیف پیدا ہوتی ہے اور اس کے اعزا و اقربا آٹھوں پہر جس طرح بے قرار رہتے ہیں اسی قسم کا درد، اسی قسم کی تکلیف اور اسی قسم کی بے قراری تمہارے دلوں میں اسلام کی مصیبت دیکھ کر پیدا ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو کیونکر سمجھا جا سکتا ہے کہ تمہارے نزدیک یہ فتنہ اتنا ہی عظیم الشان ہے جتنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ؟ میں تو دیکھتا ہوں کہ ابھی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی قوتوں کو ضائع کیا جاتا ہے۔کئی ہیں جو اپنی اولادوں کی ذراذراسی باتوں پر ابتلا میں آجاتے ہیں، کئی ہیں جو چندوں کی وجہ سے ابتلا میں آجاتے ہیں، کئی ہیں جو قربانیوں کے دوسرے مطالبات پر ابتلا میں آجاتے ہیں۔وہ دکھ جو انسان کو بے چین کر دیتا ہے، وہ ایمان جو انسان کو شکوک و شبہات سے بالا کر دیتا ہے، وہ عرفان جو محبت کی چنگاری انسان کے قلب میں پیدا کر دیتا ہے ابھی بہت کم لوگوں میں نظر آتا ہے۔اگر وہ محبت کی چنگاری ہماری جماعت کے قلوب کو گرما دیتی تو آج دنیا کی حالت کچھ سے کچھ بدلی ہوئی ہوتی۔آج کل فلسطین میں فسادات ہو رہے ہیں اور ایک دوسرے کو لوگ مار رہے ہیں، کل میرے ایک بھائی نے عربی کے ایک اخبار کی ایک تصویر مجھے بھیجی ، اس تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک عرب لیٹا ہوا ہے اس کا ماتھا بالکل اُڑ چکا ہے، اس کا مغز نظر آرہا ہے، ایک آنکھ اس کی نکل چکی ہے اور دوسری آنکھ زخمی 287