تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 286

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول تقریر فرموده 28 جون 1936ء جاتا ہے اس طرح وہ دانہ پرانا بھی ہوتا ہے اور جدید بھی۔ایک ہی وقت میں وہ پرانا ہوتا ہے اور اسی وقت میں وہ جدید بھی ہوتا ہے۔وہ دانہ جو ہم آج کھاتے ہیں کیا اپنے اندروہی جزو نہیں رکھتا جو حضرت آدم کے وقت کا دانہ رکھتا تھا ؟ پھر وہی آدم کا دانہ تھا جو نواح کے زمانہ میں لوگوں نے کھایا اور وہی نوح" کے زمانہ کا دانہ تھا جو حضرت ابرا ہیم کے زمانہ میں لوگوں نے کھایا۔کیا حضرت ابراہیم کے وقت کا دانہ آسمان سے اتر اتھا؟ کیا وہ اُسی دانہ سے نہ نکلا تھا جو حضرت نوح نے کھایا اور جو حضرت آدم نے کھایا ؟ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آیا تو اس وقت بھی وہی دانہ تھا جو حضرت ابراہیم کے وقت تھا اور وہی خواص اس کے اندر تھے جو حضرت ابراہیم کے وقت اس کے اندر موجود تھے۔پس وہ قدیم بھی تھا اور جدید بھی تھا بعض انسانوں کی عقل سے تلعب کرنے کے لئے تم بے شک اسے نیا کہہ سکتے ہو ، بعض انسانوں کی عقل سے تلعب کرنے کے لئے تم بے شک اُسے پرانا کہہ سکتے ہو مگر خدا کے لئے نہ وہ نیا تھا نہ پر انا بعض انسان بے شک اسے نیا کہ دیں گے اور بعض انسان کہہ دیں گے یہ پرانا ہے مگر خدا اور خدا سے تعلق رکھنے والوں کے نزدیک وہ نہ نیا ہے نہ پرانا ایک ہی دانہ ہے جو سب نے اپنے زمانہ میں کھایا اور کھاتے چلے جائیں گے۔غرض تو ایک ریک کا نیا نام رکھنے سے یہ ہوتی ہے کہ کوئی فائدہ اُٹھائے اگر انسان اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتا تو اسے جدید کہ لو یا قدیم کہ لو، بدعت کہ کر چھوڑ دو یا اچنبھا سمجھ کر منہ سے اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے حضور وہی پسندیدہ ہوتا ہے جو اس کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جو اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی عزت اور اپنی آبرو اور اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کے حوالے کر دے اور اسے کہہ دے کہ آپ اس سے جو چاہیں سلوک کریں۔وہ خدا واحد اور لاشریک ہے وہ اپنی چیز میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا وہ یہ نہیں دیکھ سکتا کہ کچھ حصہ اسے دیا جائے اور کچھ شیطان کو یا کچھ حصہ خدا کو دیا جائے اور کچھ دوستوں اور عزیزوں کو یا کچھ حصہ خدا کو دیا جائے اور کچھ حصہ دنیوی حکومتوں کو یا کچھ حصہ خدا کو دیا جائے اور کچھ حصہ اپنی بیوی اور بچوں کو۔خدا ایسے شخص کی کوئی چیز قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا، نہیں ہوا اور نہیں ہوگا۔وحدہ لاشریک ہونے کے لحاظ سے وہی چیز قبول کرتا ہے جو خالص اسی کو دی جائے اور اس میں کسی اور کا حصہ نہ رکھا جائے پھر وہ اپنی خوشی سے جو چاہے واپس کر دے مگر اس کو یہ پسند نہیں کہ اس کی محبت اور اس کے لئے قربانیوں میں کسی دوسرے کو حصہ دار بنایا جائے۔پس ہر شخص جو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنے وطن اور اپنی ہر چیز کی قربانی میں کسی اور کو شریک بناتا اور پھر یہ امید رکھتا ہے کہ خدا اس سے راضی ہو وہ نادان ہے وہ کبھی دنیوی زندگی کا ماحصل نہیں پا سکتا اس کی کوششیں عبث اور 286