تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 234
خطبہ جمعہ فرمود 20 دسمبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول احساس ہوگا کہ بڑھتی کے بیوی بچے ہیں اور وہ بھی کپڑے پہنتے اور روٹی کھاتے ہیں اس لئے اس کی مزدوری کو نہیں روکنا چاہئے اسی طرح وہ ایک ڈاکٹر ، ایک انجینئر ، ایک وکیل ایک معمار، ایک درزی ، ایک نائی اور دنیا کے دوسرے پیشہ وروں کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جائز اور مفید کام کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرنی چاہئے خواہ ماہوار تنخواہ کی صورت میں یا روزانہ مزدوری ادا کرنے کی صورت میں مگر جب دین کا معاملہ آتا ہے تو وہ مبلغین کے متعلق یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ وہ نہ کھاتے ہیں، نہ پہنتے ہیں، نہ ان کی بیویاں ہیں، نہ بچے گویاوہ انسان نہیں بلکہ ملائکہ کی قسم کے لوگ ہیں یا کم سے کم وہ ان کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا حق نہیں نہ کھائیں اور پئیں اور اگر وہ کھاتے ہیں تو دوسروں کا حق چھین کر جیسے کتے کو بعض دفعہ انسان اپنی روٹی ڈال دیتا ہے ان کو بھی کچھ دے دیا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب کبھی بھی علم دین کی کوئی باتیں سنانے والا ان کے پاس جائے ، چاہے وہ اس کی باتوں کی قدر کریں مگر وہ اسے ذلیل ترین وجود سمجھتے ہیں۔حالانکہ جس کام کو انہوں نے اختیار کیا ہوا ہوتا ہے اگر اسے دیانت داری سے کریں تو وہ دنیا کا معزز ترین کام ہے۔عام طور پر ہمارے ملک میں جن لوگوں کو شریف اور معزز سمجھا جاتا ہے ان سے اگر کوئی کہے کہ اپنی لڑکی ایسے شخص کو دے دو تو وہ حیران ہو کر کہیں گے یہ تو ملا ہے ! حالانکہ ملا کیا چیز ہے؟ ملا ہمارے ملک کا مذہبی رہنما ہے مگر کچھ ان کے اخلاق بگڑ جانے کی وجہ سے اور کچھ اس گزارہ کی رقم کی وجہ سے جو وہ لیتے ہیں غلط فہمی میں مبتلا ہو کر لوگ انہیں ذلیل ترین وجود سمجھنے لگ گئے مگر یہ احساس ان کو ڈاکٹر سے متعلق نہیں ہوتا اور نہ ان کو یہ احساس ایک وکیل کے متعلق ہوتا ہے وہ بڑے ادب اور احترام سے ایک ڈاکٹر یا وکیل کو فیس دیں گے، اس کی خاطر تواضع کریں گے، نام بھی عزت سے لیں گے اور بات کرتے ہوئے کہیں گے کہ بڑے آدمی جو ہوئے ہم ان کے مقابلہ میں کیا ہیں؟ پس ایک ڈاکٹر کی ڈاکٹری اور ایک وکیل کی وکالت کی ان کی نگاہوں میں وقعت ہے لیکن دین اور اس کی اشاعت کرنے والے کی ان کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں اور چونکہ ایک خرابی اور خرابیاں پیدا کر دیا کرتی ہے اس لئے اس تحقیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان ایک لعنت میں گرفتار ہو گئے کہ ان میں سے جتنی تو میں اپنے آپ کو شریف سمجھتی تھیں انہوں نے اس دینی کام کی طرف سے اپنی توجہ ہٹالی، کچھ شرفا جنہوں نے یہ کام اختیار کیا ذلیل ہو گئے اور کچھ ذلیل اس لئے اس کام کی طرف متوجہ ہو گئے کہ جب ہم آگے ہی ذلیل ہیں تو ایک ذلت یہ بھی سہی۔آخر جس کا سر پھر جائے گا اس کا باقی دھڑ اسے کیا کام دے سکتا ہے؟ جب وہ لوگ جو دین کا سر تھے ذلیل ہو گئے تو مسلمان بھی بحیثیت قوم گر گئے اور سب دنیا کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے۔یہ عادت جو مسلمانوں میں ایک 234