تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 233

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 20 دسمبر 1935ء تحریک جدید کے تین اہم مطالبات خطبہ جمعہ فرمودہ 20 دسمبر 1935ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔(1) تحریک جدید کے بعض حصوں کو میں قبل ازیں بیان کر چکا ہوں اور آج میں اس کے بعض دوسرے حصے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ایک بات تحریک جدید میں میں نے یہ بیان کی تھی کہ جو دوست لیکچر دینے کی قابلیت رکھتے ہوں وہ اپنے نام دفتر میں لکھوادیں تا مختلف جگہوں پر جو جلسے ہوتے ہیں ان پر انہیں بھیجا جائے اور ان سے تقریریں کرائی جائیں۔در حقیقت انسانی دماغ مختلف قسم کے ہوتے ہیں بعض انسان علمی باتوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور بعض لوگ بات کی نسبت بولنے والے کی پوزیشن کو زیادہ دیکھتے ہیں۔جو لوگ علمی باتیں سننے اور انہیں سمجھنے کے عادی ہوتے ہیں ان کے لئے ہمارے سلسلہ کے علما کافی ہیں لیکن بعض لوگوں کے دلوں میں یہ احساس ہوتا ہے کہ دیکھیں کہنے والا کس حیثیت کا آدمی ہے اور وہ ہمیں اپنی باتیں سنانے کیلئے کن مقاصد کے ماتحت آیا ہے۔دنیا میں عام طور پر اس وقت لالچ اور حرص کا دور دورہ ہے اس لئے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ کے مبلغ صرف معمولی گزارہ لیتے ہیں اور در حقیقت سلسلہ کے لئے ان کا کارکن بننا کوئی ملازمت نہیں بلکہ زندگی کو وقف کرنا ہے مگر چونکہ وہ ایسے ماحول میں رہتے ہیں جس میں عربی علوم اور دین کی کوئی قدر نہیں اس لئے وہ مبلغ کو قدرو منزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔لوگ ہر پیشہ کی قدر سمجھتے ہیں اور ایک لوہار کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور جب وہ ان کا کوئی کام کرے تو وہ اس کی مزدوری دینے کے لئے تیار رہیں گے، وہ ایک بڑھئی کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور اس بڑھتی کی مزدوری کے پیسوں کو اس کا جائز حق سمجھیں گے، انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ لوہار کے بیوی بچے ہیں اور وہ بھی کپڑے پہنتے اور روٹی کھاتے ہیں اس لئے اس کی مزدوری ضرور دینی چاہئے۔انہیں اس بات کا 233