تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 219

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر اور حکیم بہت زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔اسی طرح پیشہ ور لوگ بھی مفید ہو سکتے ہیں اچھے لوہار دنیا کے ہر علاقہ میں خصوصاً آزاد ملکوں میں جہاں ہتھیار وغیرہ بنتے ہوں بہت کامیاب ہو سکتے ہیں چین اور افریقہ کے کئی علاقوں میں ان کی بہت قدر ہو سکتی ہے عرب میں نہیں کیونکہ وہاں کے لوگ تلوار بنانے میں ماہر ہیں۔اسی طرح ڈرائیوری جاننے والوں کے لئے بھی کافی گنجائش ہو سکتی ہے۔کسی ملک میں پہنچ کر کوئی سیکنڈ ہینڈ لاری یا موٹر لے کر فوراً کام شروع کیا جا سکتا ہے۔بی اے، مولوی فاضل اور میٹرک پاس بھی کام دے سکتے ہیں۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ وہ ہاتھ سے کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔پھیری کے ذریعہ پہلے دن ہی روزی کمائی جاسکتی ہے۔ہم تو کچھ مدد بھی دیتے ہیں لیکن ہمت کرنے والے نوجوان تو بغیر مدد کے بھی کام چلا سکتے ہیں۔تم میں سے ایک نوجوان نے گزشتہ سال میری تحریک کو سنا وہ ضلع سرگودھا کا باشندہ ہے وہ نو جوان بغیر پاسپورٹ کے ہی افغانستان جا پہنچا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی حکومت نے اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تو وہاں قیدیوں اور افسروں کو تبلیغ کرنے لگا اور وہاں کے احمدیوں سے بھی وہیں واقفیت بہم پہنچالی اور بعض لوگوں پر اثر ڈال لیا۔آخر افسروں نے رپورٹ کی کہ یہ تو قید خانہ میں بھی اثر پیدا کر رہا ہے ملانے قتل کا فتویٰ دیا مگر وزیر نے کہا کہ یہ انگریزی رعایا ہے اسے ہم قتل نہیں کر سکتے۔آخر حکومت نے اپنی حفاظت میں اسے ہندوستان پہنچادیا۔اب وہ کئی ماہ کے بعد واپس آیا ہے اس کی ہمت کا یہ حال ہے کہ جب میں نے اسے کہا کہ تم نے غلطی کی اور بہت ممالک تھے جہاں تم جاسکتے تھے اور وہاں گرفتاری کے بغیر تبلیغ کر سکتے تھے تو وہ فورا بول اٹھا کہ اب آپ کوئی بتادیں میں وہاں چلا جاؤں گا۔اس نوجوان کی والدہ زندہ ہے لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار تھا کہ بغیر والدہ کو ملے دوسرے کسی ملک کی طرف روانہ ہو جائے مگر میرے کہنے پر وہ والدہ کو ملنے جارہا ہے۔اگر دوسرے نوجوان بھی اس پنجابی کی طرح جو افغانستان سے آیا ہے ہمت کریں تو تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے۔روپیہ کے ساتھ مشن قائم نہیں ہو سکتے۔اس وقت جو ایک دو مشن ہیں ان پر ہی اس قدر روپیہ صرف ہو رہا ہے کہ اور کوئی مشن نہیں کھولا جا سکتا لیکن اگر ایسے چند ایک نو جوان پیدا ہو جائیں تو ایک دو سال میں ہی اتنی تبلیغ ہو سکتی ہے کہ دنیا میں دھاک بیٹھ جائے اور دنیا سمجھ لے کہ یہ ایک ایسا سیلاب ہے جس کا رکنا محال ہے۔مغل قوم جس ملک سے آئی وہاں غربت بہت تھی یہ لوگ عام طور پر شکار پر گزارہ کرتے تھے ان میں سے چند لوگ باہر نکلے تو دولت دیکھی اور واپس آکر شور مچادیا کہ دنیا میں اس قدر دولت ہے اور تم بھوکے مر رہے ہو۔یہ لوگ دولت کی خاطر اپنے ملک سے نکلے اور فرانس سے لے کر چین کی حدوں تک حکومت کی 219