تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 214
خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء سیک کلیلیں کرلیں۔تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد اول پس میں اس تحریک کے متعلق پھر یہ اعلان کر دیتا ہوں کہ جو اس میں میری خاطر شریک ہونا چاہتے ہیں اور اسے محدود خیال کرتے ہیں بہتر ہے کہ وہ آج ہی علیحدہ ہو جائیں کیونکہ میں ایک غریب اور کمزور انسان ہوں مجھ میں ان کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں اور ان کی قربانی دین کے لئے برکت کا موجب ہر گز نہیں ہوسکتی۔پس وہ شامل نہ ہوں تو اچھا ہے صرف وہی لوگ شامل ہوں جو خدا تعالی کے لئے قربانی کرنا چاہتے ہیں اور جو تیار ہوں کہ اسے غیر محدود عرصہ تک جاری رکھیں گے۔میری وجہ سے کوئی اس میں حصہ نہ لے کیا پتہ ہے کہ میں کل تک بھی زندہ رہ سکوں یا نہ بلکہ شام تک کا بھی علم نہیں۔میری وجہ سے شامل ہونے والوں کی قربانی دیر پا نہیں ہو سکتی قربانی اس کی مفید ہو سکتی ہے جو اپنے آپ کو ابدی قربانی کے لئے پیش کرے۔قربانی کی تعیین اس کے ذہن میں بے شک نہ ہو اور یہ تو میرے ذہن میں بھی نہیں۔ممکن ہے اگلے سال یہ قربانی نہ رہے یا مالی قربانی کی بجائے وطن یا رشتہ داروں یا جانوں کی قربانی کرنی پڑے کسی کو کیا علم ہے کہ کل کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا مطالبہ کیا جائے گا ؟ پس جو شخص ایسی مستقل اور بے شرط قربانی کے لئے تیار ہے اس کی شمولیت ہمارے لئے برکت کا موجب ہو سکتی ہے لیکن جو یہ خیال کرتا ہے کہ آج دے لوکل آرام کریں گے وہ خواہ دس لاکھ روپیہ بھی دے دے وہ ہمارے لئے برکت کا موجب نہیں ہوگا۔اس سال کی قربانی کے لئے میں پھر یہ شرط لگا تا ہوں کہ کسی کو مجبور کر کے وعدہ نہ لیا جائے اور وہی لیا جائے جو کوئی خود دیتا ہے اگر تم مجھتے ہو اک شخص سور و پسہ دے سکتا ہے مگروہ صرف پانچ دیتا ہے تو اسے کچھ مت کہو۔یہ چندہ ماہوار چندوں کی طرح نہیں ہے کہ ہر شخص لازماً ایک آنہ فی روپیہ دے سوائے اس کے جو نہ دینے کے لئے باقاعدہ اجازت حاصل کرے صرف آواز پہنچا دو پھر لاکھ دینے کی استطاعت رکھنے والا بھی اگر دس روپیہ دیتا ہے تو اسے یہ نہ کہو کہ زیادہ دے۔تمہارا کام صرف یہ ہے کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے جس تک یہ آواز نہ پہنچ جائے۔عورت ، مرد، بے کار، با کار، بوڑھا، جوان ، بچہ ہر ایک تک یہ آواز پہنچا لیکن یہ مت کہو کہ ضرور دے اور پھر بار بار مانگ کر اسے شرمندہ مت کرو کیونکہ اس سے تم کام کی برکت کو کھو دیتے ہو۔یاد رکھو! برکت اطاعت سے ہوتی ہے اور اس چندہ کے متعلق اطاعت یہی ہے۔پچھلے سال بھی میں نے یہی نصیحت کی تھی اور اب بھی کرتا ہوں کہ وعدہ لکھا کر بھی اگر کوئی سنتی کرتا ہے تو اسے ایک دو بار یاد دہانی کرا دو لیکن پیچھے نہ پڑ جاؤ۔214