تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 213
تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول - خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1935ء اس نیکی کا جو اسلام کے دوبارہ احیا کے لئے قیامت تک کی جائے گی اس کا ثواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ملتار ہے گا اسی طرح جو شخص یہ اطمینان کر کے بیٹھ جائے گا کہ کام ختم ہو گیا تبلیغ اور تربیت میں جس قدر کمی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں جس قدر خرابی پیدا ہوگی اس سب کا گناہ اس کے سر پر ہو گا۔اسلام یونہی تباہ نہیں ہوا کوئی نہ کوئی بد بخت تھا جس کے دل میں پہلے یہ خیال پیدا ہوا کہ اب اسلام ترقی کر چکا ہے اب ان قربانیوں کی ضرورت نہیں رہی جن کی ضرورت پہلے تھی وہ ابلیس سے بدتر انسان تھا کیونکہ ابلیس نے آدم کے نور کو روکنے کی کوشش کی تھی اور اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کوروکنے کی کوشش کی پھر اس شخص سے اور ابلیس پیدا ہوئے اور ان سے اور یہاں تک کہ ان اہلیوں کی تلبیس سے متاثر ہو کر مسلمان سو گئے اور پھر مر گئے۔جس طرح اس ابلیس سے بدتر انسان پر ساری دنیا کی لعنتیں پڑتی ہیں اور پڑتی رہیں گی اسی طرح جس دن کسی احمدی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اب جد و جہد کی ضرورت نہیں وہ اسلام کی دوبارہ موت کا موجب ہوگا اور اہلیوں کی ایک اور نسل کے لئے بمنزلہ آدم کے ہوگا اور قیامت تک اس پر لعنتیں پڑتی رہیں گی۔پس یہ خیالات دل سے نکال دو کہ یہ قربانیاں ایک دو سال بعد ختم ہو جائیں گی۔میرے منہ کی طرف مت دیکھو کہ میں ایک فانی وجود ہوں اپنے خدا کی طرف دیکھو جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔جس طرح خدا نے تمہیں دائمی زندگی دی ہے اسی طرح تمہاری قربانیاں دائمی ہونی چاہئیں۔دائی زندگی کے تم تبھی مستحق ہو سکتے ہو جب تم دائمی قربانی کے لئے تیار رہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریوں کے ایک اعتراض کا یہی جواب دیا ہے۔آریوں کا اعتراض ہے کہ انسان کے اعمال محدود ہیں پھر ان محدود اعمال کے نتیجہ میں دائمی اور ابدی انعام کس طرح مل سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ بے شک انسانی اعمال محدود ہیں لیکن ان کے محدود رہنے کی وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مار دیا اور نہ مومن کب اپنے اعمال کو محدود کرنا چاہتا ہے؟ وہ تو ہمیشہ کی قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے۔پس جب اس کی نیت غیر محدود تھی اور وہ ہمیشہ کے لئے نیک اعمال بجالانے کی نیت کر چکا تھا اور غیر معمولی قربانی کے لئے تیار تھا موت اپنے لئے وہ خود نہیں لایا بلکہ خدا نے اسے موت دے دی تو غیر محدود قربانی کی نیت رکھتے ہوئے وہ غیر محدود جزا کا مستحق کیوں نہ ہو؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ در اصل مومن وہی ہے جو غیر محدود قربانی کے لئے تیار رہے جو مر مر کر پیچھے دیکھتا ہے کہ مڑنے کا حکم ہوا ہے یا نہیں وہ کس طرح اپنے آپ کو دائی زندگی کا مستحق قرار دے سکتا؟ اس کی زندگی تو ایسی ہی ہے جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ قیامت کو بعض جانوروں کو بھی موقع دے دیا جائے گا کہ تھوڑی دیر 213