تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 195

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرمودہ 15 نومبر 1935ء امتحان میں ضرور فیل ہوگا، جو آج قربانی کی مشق نہیں کرتا وہ کل ضرور میدان کارزار سے بھاگے گا۔منافق یہی کہتے ہوئے مر جائیں گے کہ ہائے چندہ! ہائے چندہ ! مگر ان کا ٹھکانہ خدا کے پاس نہیں ہوگا۔ان کی باتوں میں نہ آؤ اور اگر کسی کا دل ایسا ہے کہ اس پر منافقوں کی باتوں کا اثر ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ علیحدہ ہو جائے منافق کی رفاقت ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر منافق تمہارے ساتھ ہوں گے تو تمہاری صفوں کو خراب کریں گے۔پس ہر ایسا شخص پیچھے ہٹ جائے تو یہ بھی اس کی ایک خدمت ہوگی مگر یا درکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کوئی کھیل نہیں یہ شیطان سے جنگ کا آخری اعلان ہے۔آج کل اٹلی اور حبشہ کی جنگ ہورہی ہے مگر اس کی کیا حقیقت ہے تمہاری اس جنگ کے مقابلہ میں ؟ لیکن اسی جنگ سے اٹلی ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل گیا ہے۔مسولینی نے بھی حکم دیا ہے کہ لوگوں کو گوشت کی ایک ہی ڈش ملے۔یہ پہلا حکم ہے جو کسی ملک میں دیا گیا ہے اور یہ میرے حکم کے بعد کا ہے۔اٹلی کے ڈکٹیٹر کا حکم ہے کہ تمام ملک میں ہر شخص گوشت کی ایک ہی ڈش استعمال کرے مگر ابھی وہ اس مقام پر نہیں پہنچا جو میں نے تجویز کیا تھا یعنی کسی قسم کا دوسرا سالن استعمال نہ کرو مگر بہر حال آج اٹلی کے لوگ ایک چھوٹی سی جنگ کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کر رہے ہیں۔اگر ہم خدا تعالیٰ کی بات پر ایمان رکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی عظمت پر یقین رکھتے ہیں تو ہمارے اندر اٹلی سے زیادہ جنبش پیدا ہونی چاہئے کیونکہ ہماری جنگ اس جنگ سے بڑی ہے اور جس قدر وہ بڑی ہے اسی قدر قربانی بھی بڑی ہونی چاہئے۔یہ جنگ احادیث کے رو سے شیطان اور رحمن کی آخری جنگ ہے۔پس جب تک تم اپنی زندگیوں کو روحانی سپاہیوں کے رنگ میں نہ ڈھال لو اور اپنے آپ کو خدا کے حکموں سے مقید نہ کر لو فتح حاصل نہیں کر سکتے۔جنگ عظیم میں دو کروڑ آدمی مارے گئے یا زخمی ہوئے تھے اربوں ارب روپیہ خرچ ہوا تھا، صرف انگریزوں کا دو کروڑ روپیہ روزانہ صرف ہوتا تھا مگر ہمارے لئے اس سے بڑھ کر جنگ در پیش ہے کیونکہ ہمارا کام دلوں کا فتح کرنا اور انسانوں کی عادتوں اور اخلاق اور خیالات کو بدلنا ہے۔ہم جب تک اپنے اوقات اور اپنے اموال کو ایک حد بندی کے اندر نہ لے آئیں اور اس کے بعد خدا تعالیٰ سے عرض نہ کریں کہ اے خدا تو نے ہمیں بلایا اور ہم تیرے حضور حاضر ہو گئے ہیں اس وقت تک سب دعوے باطل اور امنگیں اور خواہشیں بے سود ہیں اور کوئی چیز ہمیں فائدہ نہیں دے سکتی۔خالی دعوے تو پاگل بھی کرتا ہے لیکن اس کے دعووں کو کون وقعت دیتا ہے؟ کیونکہ وہ جو کہتا ہے کرتا نہیں ہے اور عمل کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوتی۔تحریک کے متعلق باقی حصے میں انشاء اللہ اگلے خطبات میں بیان کروں گا آج چندوں کے متعلق اعلان 195