تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 192

خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول کام کر رہے ہیں بعض جگہ نئی جماعتیں بن گئی ہیں اور بعض جگہ بن رہی ہیں ان کے علاوہ ہم اس طرح بھی کام لے لیتے ہیں کہ جن غیر صوبہ سے کسی نے اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے وقف کیا اسے اسی صوبہ میں لگا دیا۔مثلاً بنگال کے ایک دوست نے اپنی چھٹی وقف کی اور ہم نے انہیں بنگال ہی میں ایک علاقہ میں بھیج دیا جہاں پہلے کوئی جماعت نہ تھی انہوں نے ایک ماہ کام کیا جس کے نتیجہ میں گیارہ آدمیوں کی جماعت وہاں قائم ہوگئی اسی طرح درجنوں دیہات ہیں جہاں نئی جماعتیں قائم ہو گئی ہیں۔بہار اور پنجاب میں بھی کئی ایسے مبلغ ہیں جنہیں مقررہ حلقوں سے باہر لگا دیا جاتا ہے۔سائیکلسٹ بھی کام کر رہے ہیں اور کئی اضلاع کی شہر شماری اور سروے کا کام کر چکے ہیں۔ہندوستان سے باہر پانچ مبلغ بھیجے جاچکے ہیں اور 8 ، 9 اس سال کے لئے تیار ہورہے ہیں جن کے جانے کے بعد اور نئے آئیں گے۔قرآن کریم کے ترجمہ کے لئے بھی تیاری ہورہی ہے اور تھوڑے دنوں میں ہی مولوی شیر علی صاحب ولایت جانے والے ہیں۔اخبار سن رائز لاہور سے اور ایک مسلم ٹائمنر ولایت سے جاری ہوا ہے۔ایک اخبار اردو میں شائع کیا جارہا ہے دو اخبار ایسے ہیں جو ہماری امداد سے چل رہے ہیں۔ولایت کے اخبار کے متعلق غیر ممالک سے اطلاعات آئی ہیں کہ وہاں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، چین سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں لوگ اسے شوق سے پڑھتے ہیں۔سن رائز نے بھی غیر ممالک کے نو مسلموں میں روح پھونکنے کے لئے بہت کام کیا ہے۔امریکہ سے مجھے کئی خطوط نومسلموں کے پہنچے ہیں کہ پہلے جماعت سے ہمیں کوئی وابستگی معلوم نہ ہوتی تھی مگر اب سن رائز میں آپ کے خطبات کے تراجم شائع ہونے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ انہیں پڑھ کر ہم بھی اپنے آپ کو جماعت کا ایک حصہ سمجھنے لگے ہیں۔چنانچہ امریکہ کے نومسلموں نے اس تحریک میں تین ہزار چندہ لکھایا ہے جس میں سے معقول رقم وصول ہو چکی ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ وہ لوگ ایسی باتوں کے بالکل عادی نہیں ہیں اور بعض نے تو بالکل شرائط کے مطابق دیا ہے۔امریکہ میں ایک گورے نو جوان وکیل ہیں، مبلغ امریکہ نے لکھا ہے کہ ان کی اتنی حالت خراب تھی اس لئے میں نے سمجھا کہ امرا کے لئے جو رقم مقرر کی گئی ہے ان کے ذمہ اتنی نہیں ڈالنی چاہئے مگر انہوں نے خود ہی آکر تین سو کا وعدہ لکھوادیا اور پھر اسے ادا بھی کر دیا۔گویا جو لوگ اسلام کے دشمن تھے اور اس کا نام سننا بھی نہ چاہتے تھے ان کے اندر بھی زندگی کی نئی روح پیدا ہو رہی ہے۔انشاء اللہ العزیز تھوڑے دنوں میں پندرہ میں نئے ممالک میں بھی تبلیغ کا کام با قاعدہ شروع ہو جائے گا۔اعلان کے وقت یہ بات نظر انداز ہو گئی تھی کہ ان ممالک میں ان کی زبانوں میں لٹریچر کی ضرورت ہوگی لیکن اب اس ضرورت کا بھی احساس ہوا ہے اور پندرہ ہیں نئے ملکوں 192